بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 20 جنوری 2021 ء

دارالافتاء

 

موبائل فون پر گواہوں کی موجودگی میں نکاح کرنے کا حکم


سوال

موبائل فون پر  گواہ کی موجودگی میں نکاح کرنے کا کیا حکم ہے؟ مثلًا زید نکاح خواں کے پاس ہو اور زینب فون کال پر ہو تو نکاح جائز ہے یا نہیں؟

جواب

اگر لڑکا اور لڑکی موبائل فون پر نکاح کا ایجاب و قبول کریں تو اس سے  نکاح منعقد نہیں ہوتا ہے، چاہے دو آدمی (گواہ) اس گفتگو کو سن بھی لیں، اس لیے کہ نکاح اگرچہ  ایجاب و قبول سے منعقد ہوتا ہے، لیکن  ایجاب و قبول کے معتبر ہونے کے لیے اتحادِ مجلس (یعنی ایجاب و قبول کرنے والوں کی مجلس کا ایک ہونا) شرط ہے، جو کہ ٹیلی فون پر نکاح کی صورت میں نہیں پائی جارہی، کیوں کہ ایجاب کرنے والا کہیں اور ہوتا ہے اور قبول کرنے والا دوسری جگہ پر ہوتا ہے، چنانچہ مجلس متحد نہ ہونے کی وجہ سے یہ ایجاب و قبول معتبر نہیں ہوتا۔

البتہ ٹیلی فون پر نکاح کے جواز کی ایک صورت یہ ہوسکتی ہے کہ فریقین (مرد و عورت) میں سے کوئی ایک فریق فون پر کسی ایسے آدمی کو اپنا وکیل بنالے جو دوسرے فریق کے پاس موجود ہو، اور وہ وکیل گواہوں (یعنی دو مسلمان عاقل بالغ مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں) کی موجودگی میں فریقِ اول (غائب) کی طرف سے ایجاب کرلے اور دوسرا فریق اسی مجلس میں قبول کرلے تو اتحادِ مجلس کی شرط پوری ہونے کی وجہ سے یہ نکاح صحیح ہوجائے گا، مثلًا صورتِ مسئولہ میں زینب فون کال پر نکاح خواں کو اپنا نکاح کروانے کا وکیل بنادے اور نکاح خواں گواہوں کی موجودگی میں زید کے ساتھ زینب کی طرف سے ایجاب و قبول کرلے تو اس طرح سے نکاح منعقد ہوجائے گا۔ تاہم یہ ملحوظ رہے کہ نکاح اگر خفیہ ہو تو شرعًا یہ پسندیدہ نہیں ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 14):

"و من شرائط الإيجاب والقبول: اتحاد المجلس لو حاضرين."

و في الرد:

"(قوله: اتحاد المجلس) قال في البحر: فلو اختلف المجلس لم ينعقد."

الفتاوى الهندية (1/ 269):

"(ومنها) أن يكون الإيجاب والقبول في مجلس واحد حتى لو اختلف المجلس بأن كانا حاضرين فأوجب أحدهما فقام الآخر عن المجلس قبل القبول أو اشتغل بعمل يوجب اختلاف المجلس لاينعقد وكذا إذا كان أحدهما غائبا لم ينعقد حتى لو قالت امرأة بحضرة شاهدين: زوجت نفسي من فلان وهو غائب فبلغه الخبر فقال: قبلت، أو قال رجل بحضرة شاهدين: تزوجت فلانة وهي غائبة فبلغها الخبر فقالت: زوجت نفسي منه لم يجز وإن كان القبول بحضرة ذينك الشاهدين، وهذا قول أبي حنيفة ومحمد - رحمهما الله تعالى- ولو أرسل إليها رسولاً أو كتب إليها بذلك كتاباً فقبلت بحضرة شاهدين سمعا كلام الرسول وقراءة الكتاب جاز؛ لاتحاد المجلس من حيث المعنى."

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 231):

"ثم النكاح كما ينعقد بهذه الألفاظ بطريق الأصالة ينعقد بها بطريق النيابة، بالوكالة، والرسالة؛ لأن تصرف الوكيل كتصرف الموكل، وكلام الرسول كلام المرسل، والأصل في جواز الوكالة في باب النكاح ما روي أن النجاشي زوج رسول الله صلى الله عليه وسلم أم حبيبة - رضي الله عنها - فلايخلو ذلك إما أن فعله بأمر النبي صلى الله عليه وسلم أو لا بأمره، فإن فعله بأمره فهو وكيله، وإن فعله بغير أمره فقد أجاز النبي صلى الله عليه وسلم عقده والإجازة اللاحقة كالوكالة السابقة".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 21):

"(و) شرط (حضور) شاهدين (حرين) أو حر وحرتين."

الفتاوى الهندية (1/ 267):

"ويشترط العدد فلا ينعقد النكاح بشاهد واحد هكذا في البدائع ولا يشترط وصف الذكورة حتى ينعقد بحضور رجل وامرأتين، كذا في الهداية ولاينعقد بشهادة المرأتين بغير رجل وكذا الخنثيين إذا لم يكن معهما رجل هكذا في فتاوى قاضي خان".

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144205201359

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں