بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 شوال 1445ھ 23 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

موبائل پر تصاویر بناکر فروخت کرنے کا حکم


سوال

موبائل پر تصاویر بنانے اور اس کو فروخت کرنے کے جو پیسے ہیں وہ  حال ہیں یا حرام؟

جواب

واضح رہے کہ جاندار کی تصویر بنانا سخت حرام ہے اور یہ کام کبیرہ گناہوں میں سے ہے؛ کیوں کہ اس پر احادیث میں بڑی سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، اور جاندار کی تصویر بنانا  ہرحال میں حرام ہے، خواہ وہ تذلیل کے لئے بنائی گئی ہو یا تعظیم کے لئے؛ کیوں کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی صفتِ خالقیت میں مشابہت ہے، اور یہ گناہ جاندار کی تصویر بنانے والے کے لئے ہر صورت میں ثابت ہے۔ نیز کسی کام کی اجرت کے جائز ہونے کے لیے ایک شرط یہ بھی ہے کہ وہ کام شرعاً جائز ہو، ورنہ اس کی اجرت جائز نہیں ہوگی۔

حدیثِ مبارک میں ارشاد ہے:

"حدثنا ‌عبد الله بن عبد الوهاب: حدثنا ‌يزيد بن زريع : أخبرنا ‌عوف ، عن ‌سعيد بن أبي الحسن قال: كنت عند ابن عباس رضي الله عنهما: إذ أتاه رجل فقال: يا أبا عباس، إني إنسان، إنما معيشتي من صنعة يدي، وإني ‌أصنع ‌هذه ‌التصاوير. فقال ابن عباس: لا أحدثك إلا ما سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: سمعته يقول: من صور صورة فإن الله معذبه حتى ينفخ فيها الروح، وليس بنافخ فيها أبدا. فربا الرجل ربوة شديدة واصفر وجهه، فقال: ويحك، إن أبيت إلا أن تصنع، فعليك بهذا الشجر، كل شيء ليس فيه روح."

(صحيح البخاري، كتاب البيوع، ‌‌باب بيع التصاوير التي ليس فيها روح وما يكره من ذلك، ٣/ ٨٢، ط: دار طوق النجاة)

    ترجمہ:’’حضرت سعید بن ابی الحسنؒ کہتے ہیں کہ میں حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کے پاس بیٹھا ہوا تھا ،اتنے میں ایک شخص ان کے پاس آیا اور ان سے کہا کہ اے ابن عباس! میں ایک ایسا شخص ہوں کہ میرا ذریعہ معاش ہاتھوں کا ہنر ہے اور میں یہ تصویریں بناتاہوں (یعنی کیا یہ ذریعہ معاش جائز ہے؟) حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا :میں تمہیں وہی بات بتاؤں گا جو میں نے رسول اللہ  ا سے سنی ہے، میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص تصویریں بنائے گا، اللہ تعالیٰ اس کو عذاب دے گا، جب تک کہ وہ اس میں روح نہ پھونک دے اور وہ اس میں کبھی بھی روح نہ پھونک سکے گا، اس پر وہ شخص سوج گیا اور اس کا چہرہ زرد پڑگیا۔ حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا: ارے! اگر تمہیں تصویریں ہی بنانی ہیں تو ان درختوں کی اور ہر ایسی چیز کی تصویر بناؤ جس میں روح نہ ہو۔‘‘

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں  موبائل پر جاندار کی تصاویر (جس سے اس جاندار کی صورت کے خد و خال نمایاں ہوتے ہوں اور دیکھنے والا اس کو جان دار کی تصویر سمجھ سکے) بنانا اور اُس  کو فروخت کرکے پیسے کمانا جائز نہیں ہے، اس کام سے احتراز لازم ہے، تاہم اگر غیر جاندار (مثلاً قدرتی مناظر وغیرہ) کی تصاویر بنائی جائیں اور اُسے فروخت کرکے پیسے کمائے جائیں، تو جائز ہوگا۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

‌"وظاهر ‌كلام النووي في شرح مسلم: الإجماع على تحريم تصوير الحيوان، وقال: وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره، فصنعته حرام بكل حال لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى، وسواء كان في ثوب أو بساط أو درهم و إناء."

(كتاب الصلاة ،مطلب في مكروهات الصلاة،١/ ٦٤٧، ط:سعيد)

مجمع الأنہر میں ہے:

"لا يجوز أخذ الأجرة على المعاصي (كالغناء، والنوح، والملاهي) ؛ لأن ‌المعصية ‌لا ‌يتصور استحقاقها بالعقد فلا يجب عليه الأجر، وإن أعطاه الأجر وقبضه لا يحل له ويجب عليه رده على صاحبه."

(كتاب الإجارة، باب الإجارة الفاسدة.  ٢ / ٣٨٤. ط: دار إحياء التراث العربي)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144506102757

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں