بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 شوال 1445ھ 24 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

موبائل سے تصویر لینے یا ویڈیو بنانے كا حكم


سوال

موبائل سے تصویر لینا یا ویڈیو بناناجائز ہےیا ناجائز؟

جواب

دینِ اسلام میں جان دار کی  تصویر سازی، کسی بھی شکل میں ہو (متحرک ہو یا ساکن)کسی بھی طریقے سے بنائی جائے، بناوٹ کے لیے جو بھی آلہ استعمال ہو، کسی بھی غرض و مقصد سے تصویر بنائی جائے، حرام ہے۔ جان دار کی تصویر کھینچنا، بنانایا بنوانا اسی طرح ویڈیوبنانا ناجائز اور حرام ہے، خواہ  اس تصویر کشی کے  لیے موبائل  یااس کے علاوہ کوئی بھی  آلہ استعمال کیا جائے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"وظاهر كلام النووي في شرح مسلم: الإجماع على تحريم تصوير الحيوان، وقال: وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره، فصنعته حرام بكل حال؛ لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى، وسواء كان في ثوب أو بساط أو درهم وإناء وحائط وغيرها اهـ."

 (كتاب الصلاة، مطلب: مكروهات الصلاة، ج:1، ص:647 ، ط : ایچ ایم سعید )

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144509102147

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں