بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

مجبوری کی حالت میں سیونگ اکاؤنٹ کھلوانے کاحکم


سوال

ایک بیوہ ہے اس کے شوہر کانتقال ہوگیاہے، ان کی وفات کے بعد بیوہ کاکوئی ذریعہ معاش نہیں ہے بیوہ کا بیٹا ابھی چھوٹاہے گھر کے اخراجات چلانےکےلیے جو شوہر کی جمع پونچی ہے اس کو بیوہ اسٹیٹ بینک میں یاکسی دوسرے بینک میں جمع کرواسکتی ہے(یعنی بینک میں رقم جمع کرکے اس سے پروفٹ وصول کرسکتی ہے)، بیوہ کے پاس کوئی اور رستہ نہیں ہے کہ کیاکام کروں اورکسں کو رقم دوں آج کل کے فراڈ کی وجہ سے ، بیوہ اس دنیاکے فراڈ سے بھی ڈری ہوئی ہےاپنے شوہر کے انتقال کے بعداپنی باقی زندگی کے گزر بسر کے لیے اب وہ کیا کرے۔

جواب

واضح رہے کہ کسی بھی بینک میں سیونگ اکاؤنٹ کھلوانا اور اس سے منافع حاصل کرنا سود ہونے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے، نیز بیوہ خاتون کی عدت گزرنے  کے بعد اگر اس   کے پاس کمائی کا کوئی جائز  ذریعہ ہو تو   وہ اپنا خرچ خود اٹھائے گی ، اگر اس کے پاس کمائی کا ذریعہ نہ ہو تو اس کا نان و  نفقہ اور  رہائش وغیرہ کا انتظام کرنا اس کے بیٹے کے ذمے ہیں اگر بیٹا نہ ہو یا چھوٹاہو تو بیوہ کا نان نفقہ اس کے  والد کے  ذمے  ہے، اگر والد یا بیٹایابھائی وغیرہ کوئی ایسا رشتہ دار نہ ہو جو اس کا خرچہ اٹھا سکے تو  شریعتِ  مطہرہ نے اس کو اپنے خرچے کا انتظام کرنے کے  لیے پردہ کے اہتمام کے ساتھ کسب کے  لیے گھر سے نکلنے کی اجازت بھی دی ہے۔

لہٰذاصورت مسئولہ میں بیوہ عورت کے لیے کس بھی بینک میں سیونگ اکاؤنٹ کھلوانا اور اس میں رقم جمع کرکے اس سے منافع حاصل کرنا سود ہونے کی وجہ سے ناجائز و حرام ہے، البتہ بیوہ عورت کسی اپنے معتمد شخص کو رقم دے کر کاروبار میں بطور مضاربت لگاکر اس سے منافع وصول کرکے اپنا گزر بسر کرسکتی ہے،اگر بیوہ کو کسی شخص پر اعتماد نہ ہوتو پھر اس صورت میں بیوہ  کے  بیٹےکے  چھوٹا(نابالغ) ہونے کی وجہ سے   بیوہ  کانان نفقہ اور رہائش کا انتظام اس کے والد کے ذمے لازم ہے ،اگر والد حیات نہ تو بیوہ کے بھائی وغیرہ پر لازم ہے، اگر ان میں سے کوئی بھی نہ تو پھر شریعت مطہرہ نے ایسے عورت کو باپردہ کسب معاش کےلیے گھرسے نکلنے کی جاز ت دی ہے،کسب سے عاجز ہو تو اہلِ ایمان و اسلام اس کی بوقتِ ضرورت زکوۃ سے بشرطِ استحقاق مدد کریں۔

الفتاوی الہندیۃ میں ہے:

"(الفصل السادس في تفسير الربا وأحكامه) وهو في الشرع عبارة عن فضل مال لا يقابله عوض في معاوضة مال بمال وهو محرم في كل مكيل وموزون بيع مع جنسه وعلته القدر والجنس."

(کتاب البیوع، الباب التاسع، الفصل السادس،ج:3،ص:117،ط:دار االفکر)

 الدر المختار  مع الرد المحتار میں ہے:

"وفي الأشباه: ‌كلُّ ‌قرضٍ ‌جرَّ نفعاً حرامٌ .... (قوله: ‌كلُّ ‌قرضٍ ‌جرَّ نفعاً حرامٌ) أي إذا كان مشروطاً كما عُلم مما نقله عن البحر وعن الخلاصة".

(کتاب البیوع، باب المرابحۃ والتولیۃ، مطلب کل قرض جرّنفعاً حرامٌ،ج:5،ص:166،ط:سعید)

وفیہ ایضاً:

'' (وكذا) تجب (لولده الكبير العاجز عن الكسب) كأنثى مطلقاً ۔۔۔ (لا يشاركه) أي الأب ولو فقيراً (أحد في ذلك كنفقة أبويه وعرسه) به يفتى ما لم يكن معسراً فيلحق بالميت، فتجب على غيره بلا رجوع عليه على الصحيح من المذهب إلا لأم موسرة، بحر. قال: وعليه فلا بد من إصلاح المتون جوهرة.

(قوله:كأنثى مطلقاً) أي ولو لم يكن بها زمانة تمنعها عن الكسب فمجرد الأنوثة عجز، إلا إذا كان لها زوج فنفقتها عليه ما دامت زوجةً.''

(باب النفقه،مطلب الصغير والمكتسب نفقة في كسبه لا على أبيه،ج:3ص:614،ط:سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144406100680

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں