بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 صفر 1444ھ 26 ستمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

میاں بیوی کا ایک دوسرے کی شرمگاہ کو چاٹنا


سوال

 سیکس کے دوران میں اپنی بیوی کی فرج کو زبان لگاتا ہوں اور میری بیوی  میری  شرم گاہ کو چوستی ہے،  میرے آپ سے دو سوال ہیں: بیوی کی شرم گاہ میں انزال سے پہلے جو گیلا پن ہوتا ہے وہ کس مادے سے ہے؟ اور کیا وہ نجس ہے؟ میری شرم گاہ سے انزال سے پہلے جو پانی نکلتا ہے اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟

میاں بیوی کا ایک دوسرے کو ہر ممکن لذت اور تسکین دینے کے لیے یہ عمل بہت رواج پا چکا ہے۔ یہ حرام نہیں مکروہ ہے۔ اس کو حرام یا مکروہ کیسے کہا جا سکتا ہے۔جب کہ شریعت میں اس کے بارے میں کوئی واضح حکم موجود نہیں ہے اور  جہاں تک علماء کے فتویٰ کی بات ہے تو کئی علماء اس کو جائز قرار دیتے ہیں۔

جواب

صورت مسئولہ میں مرد وعورت کا ایک دوسرے کی شرمگاہ چاٹنا ،یہ عمل میاں بیوی کے درمیان بھی غیرشریفانہ اورغیرمہذب عمل ہے،میاں بیوی کاایک دوسرے کی شرمگاہ کودیکھنابھی غیرمناسب ہے اورنسیان کی بیماری کاسبب بنتاہے ، لہذااس سے حترازکرنا ضروری ہے۔حدیث شریف میں ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سترکی طرف کبھی نظرنہیں اٹھائیاس حدیث کے ذیل صاحب مظاہرحق علامہ قطب الدین دہلویؒ لکھتے ہیں:ایک روایت میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکے یہ الفاظ ہیں کہ :نہ توآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے میراسترکبھی دیکھااورنہ کبھی میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کاستردیکھا۔ان روایتوں سے معلوم ہواکہ اگرچہ شوہراوربیوی ایک دوسرے کاستردیکھ سکتے ہیں لیکن آداب زندگی اورشرم وحیاء کاانتہائی درجہ یہی ہے کہ شوہراوربیوی بھی آپس میں ایک دوسرے کاسترنہ دیکھیں۔دوسری حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:جب تم میں سے کوئی اپنی اہلیہ کے پاس جائے توپردے کرے،اورگدھوں کی طرح ننگانہ ہو۔(یعنی بالکل برہنہ نہ ہو)۔

فتاویٰ ہندیہ اور  محیط برہانی میں بھی ایک قول ان کے ناجائز (مکروہِ تحریمی) ہونے کا لکھا ہے، اور شام کے مشہور محقق عالم دکتور وہبہ زحیلی رحمہ اللہ نے اپنی مایہ ناز تصنیف "الفقہ الاسلامی و ادلتہ"  میں اسے  حرام لکھا ہے، اوراسے مغرب سے درآمد شدہ، حیا باختہ حرکت قرار دیا ہے۔

شریعت کا مسئلہ یہی ہے باقی اگر کوئی اس کی بُرائی کا قائل نہیں ہے تو  اللہ  کے ہاں وہی اس کا جواب دہ ہے ،نيز  اگر کوئی اس کی اجازت دیتا بھی ہے، تب بھی یہ ایسی چیز ہے کہ اس کی برائی کسی سلیم الفطرت آدمی سے پوشیدہ نہیں۔

سنن ابن ماجہ میں ہے:

"عن عائشة، قالت: «‌ما ‌نظرت، أو ما رأيت فرج رسول الله صلى الله عليه وسلم قط»."

(کتاب النکاح ، باب التستر عند الجماع جلد ۱ ص : ۶۱۹ ط : داراحیاء الکتب العربیة)

سنن ابن ماجہ میں ہے:

"عن عتبة بن عبد السلمي، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا أتى أحدكم أهله ‌فليستتر، ولا يتجرد تجرد العيرين»."

(کتاب النکاح ، باب التستر عند الجماع جلد ۱ ص : ۶۱۸  ط : داراحیاء الکتب العربیة)

فتاوی ہندیۃ میں ہے:

"في النوازل إذا أدخل الرجل ذكره في فم امرأته قد قيل يكره وقد قيل بخلافه كذا في الذخيرة."

(کتاب الکراهیة ، الباب الثلاثون فی المتفرقات جلد ۵ ص : ۳۷۲ ط : دارالفکر)

محیط البرہانی میں ہے:

"إذا ‌أدخل ‌الرجل ذكره فم أمرأته فقد قيل: يكره؛ لأنه موضع قراءة القرآن، فلا يليق به إدخال الذكر فيه، وقد قيل بخلافه."

(کتاب الاستحسان و الکراهیة ، الفصل الثانی و الثلاثون فی المتفرقات جلد ۵ ص : ۴۰۸ ط : دارالکتب العلمیة ، بیروت ۔ لبنان)

الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ  میں ہے:

"‌‌‌لمس ‌فرج ‌الزوجة: اتفق الفقهاء على أنه يجوز للزوج مس فرج زوجته. قال ابن عابدين: سأل أبو يوسف أبا حنيفة عن الرجل يمس فرج امرأته وهي تمس فرجه ليتحرك عليها هل ترى بذلك بأسا؟ قال: لا، وأرجو أن يعظم الأجر  .

وقال الحطاب: قد روي عن مالك أنه قال: لا بأس أن ينظر إلى الفرج في حال الجماع، وزاد في رواية: ويلحسه بلسانه، وهو مبالغة في الإباحة، وليس كذلك على ظاهره .

وقال الفناني من الشافعية: يجوز للزوج كل تمتع منها بما سوى حلقة دبرها، ولو بمص بظرها وصرح الحنابلة بجواز تقبيل الفرج قبل الجماع، وكراهته بعده."

(الاحکام المتعلقة بالفرج جلد ۳۲ ص : ۹۱ ط : وزارۃ الاوقاف و الشئون الاسلامیة ۔ الکویت)

فتاوی رحیمیۃ میں ہے:

 "بے شک شرم گاہ کاظاہری حصہ پاک ہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ ہرپاک چیزکومنہ لگایاجائے اورمنہ میں لیاجائے اورچاٹاجائے، ناک کی رطوبت پاک ہے توکیاناک کے اندرونی حصے کوزبان لگانا،اس کی رطوبت کومنہ میں لیناپسندیدہ چیزہوسکتی ہے؟توکیااس کوچومنے کی اجازت ہوگی؟نہیں ہرگزنہیں،اسی طرح عورت کی شرم گاہ کوچومنے اورزبان لگانے کی اجازت نہیں،سخت مکروہ اورگناہ ہے۔ غور کیجیے! جس منہ سے پاک کلمہ پڑھاجاتاہے،قرآن مجیدکی تلاوت کی جاتی ہے،درودشریف پڑھاجاتاہے اس کوایسے خسیس کام میں استعمال کرنے کودل  کیسے گوارا کرسکتاہے؟"

(کتاب الحظر و الاباحۃ  جلد ۱۰ ص:۱۷۸ ط:دارالاشاعت کراچی)

فقط و اللہ اعلم


فتوی نمبر : 144310100111

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں