بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ذو الحجة 1443ھ 03 جولائی 2022 ء

دارالافتاء

 

میاں بیوی کے تعلق میں کچھ ناجائز اور نامناسب عمل سے نکاح کا حکم / غسل واجب میں تاخیر کا حکم


سوال

ایک شادی شدہ جوڑے سے بعض  خلافِ شریعت عمل سرزد ہو گئے ہیں یعنی حیض کی حالت میں ہم بستری،  شرم گاہ کا بوسہ اور برہنہ حالت میں ایک دوسرے کو دیکھنا اور اسی حالت میں لیٹنا، کیا  ان خلاف ِ شریعت اعمال سے  نکاح پر کوئی اثر پڑتا ہے؟  نیز یہ بھی بتائیں کہ توبہ کی کیا صورت اختیار کی جائے؟ اور کیا ان اعمال سے گھر میں مالی پریشانی ہو جاتی ہے اور جس گھر میں  اس عمل کا ارتکاب کیا جائے تو کیا وہاں سے رہائش  چھوڑنی چاہیے یا وہیں ریائش برقرار رکھی جا سکتی ہے ؟ 

  2: کیا میاں بیوی ہم بستری کے بعد برہنہ حالت میں سو سکتے ہیں

3:  ہم بستری کے بعد فوراً غسل کرنا ضروری ہے یا اسے مؤخر کیا جا سکتا ہے اگر کیا جا سکتا ہے تو کتنی دیر تک؟

جواب

واضح رہے کہ  حیض حالت میں  میں بیوی سے جماع کرنا  یا ناف سے لے کر گھٹنے تک بغیر حائل کے لطف اندوز ہونا حرام اور  ناجائز ہے،  البتہ  ناف سے لے کر گھٹنوں تک (بشمول گھٹنہ) کے علاوہ جسم کے دیگر حصوں سے فائدہ حاصل کرنے  کی اجازت ہے۔اور بیوی کی   شرم گاہ کا بوسہ وغیرہ لینا بھی  انسانی  شرافت اور  اسلامی تعلیمات کے منافی ہے، اس سے احتراز کرنا چاہیے۔

نیز  شوہر اور بیوی کاآپس میں کوئی پردہ نہیں ہے ،دونوں ایک دوسرے کے مکمل بدن اور ستر کو دیکھ سکتے ہیں، اس میں کوئی گناہ نہیں ہے، البتہ  خاص شرم گاه كی طرف  نہ دیکھنا بہتر ہے، یہ حیااور ادب کا تقاضا ہے، جیساکہ حدیث مبارکہ میں آتا ہے کہ  حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہی فرماتی ہیں کہ: ” نہ تو آپ ﷺ نے کبھی میرے ستر کی طرف دیکھا اور نہ ہی میں نے کبھی آپ ﷺ کے ستر کی طرف دیکھا۔“

باقی مذکورہ کسی بھی عمل سے نکاح ختم نہیں ہوا ہے، ان میں سے  جو چیزیں  نامناسب ہیں، آئندہ کے لیے  ان سے بچنے کا اہتمام کیا جائے، اور جو چیزیں ناجائز اور حرام درجہ کی ہیں ان پر توبہ واستغفار کرنا لازم ہے، نیز  حیض  کی حالت میں جماع کرنے کے گناہ  کے ازالہ کے لیے   بہتر یہ ہے کہ کچھ صدقہ بھی  کردیں ؛ تاکہ نیکی سے گناہ دھل جائے، استطاعت ہو تو حیض کے ابتدائی دنوں میں ہم بستری کرنے کی صورت میں (جب کہ خون سرخ ہو) ایک دینار (یعنی  4.374گرام سونا یا اس کی قیمت)  اور آخری ایام میں ہم بستری کرنے کی صورت میں  (جب  خون سرخ رنگ کے علاوہ ہو)  آدھا دینار (یعنی  2.187 گرام سونا یا اس کی قیمت) صدقہ کردیں، البتہ   ایک دینار یا آدھا دینار کا صدقہ کرنا واجب نہیں ہے،اگر استطاعت نہ ہو تو  جس قدر ممکن ہو اتنا صدقہ کردیں؛تاکہ گناہ کا ازالہ بھی ہو، اور  آئندہ ایسی غلطی  سے بچنے کا اہتمام بھی ہو ۔

گھر میں  مالی پریشانی کا  اسی وجہ سے ہونا   یقینی نہیں ہے، البتہ گناہ کی نحوست ہوتی ہے، جس سے رزق کی برکت ختم ہوجاتی ہے، اور بسا اوقات  اللہ تعالیٰ گناہوں کی وجہ سے دنیا ہی میں پکڑفرمالیتے ہیں، اس لیے گناہوں پر سچے دل سے توبہ واستغفار کرنا ضروری ہے۔ تاہم مذکورہ مکان کو خالی کرنا ضروری نہیں ہے، اس میں رہائش برقرار رکھی جاسکتی ہے۔

2:بالکل برہنہ ہوکر سونا شرعاً   پسندیدہ نہیں ہے۔

3: غسلِ واجب میں جس قدر جلدی طہارت حاصل کرلی جائے بہتر ہے، تاہم نماز کے وقت تک  تاخیر کرنے سے گناہ نہیں ہوگا،اس صورت میں بھی  بہتر یہی ہے کہ  وضو کرکے یا کم از کم  شرم گاہ وغیرہ سے نجاست صاف کرکے سوئے  اور غسل جنابت میں  اتنی تاخیر کرنا کہ نماز قضا ہوجائے، جائز نہیں ہے۔ 

حدیث مبارک میں ہے:

"مانظرت أو مارأیت فرج رسول الله صلی الله علیه وسلم قط."

(سنن ابن ماجه:138، أبواب النکاح، ط:قدیمی)

فتاوی شامی  میں ہے:

"(و) يمنع... (و قربان ماتحت إزار) يعني مابين سرة و ركبة ولو بلاشهوة و حل ماعداه مطلقاً."

(1/ 292،باب الحيض،، ط: سعيد)

وفیه أیضاً:

"ويندب تصدقه بدينار أو نصفه.

(قوله: ويندب إلخ) لما رواه أحمد وأبو داود والترمذي والنسائي عن ابن عباس مرفوعًا «في الذي يأتي امرأته وهي حائض، قال: يتصدق بدينار أو نصف دينار» ثم قيل إن كان الوطء في أول الحيض فبدينار أو آخره فبنصفه، وقيل بدينار لو الدم أسود وبنصفه لو أصفر. قال في البحر: ويدل له ما رواه أبو داود والحاكم وصححه «إذا واقع الرجل أهله وهي حائض، إن كان دما أحمر فليتصدق بدينار، وإن كان أصفر فليتصدق بنصف دينار»."

(1/ 298، كتاب الطهارة، باب الحيض، ط: سعيد)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"الجنب إذا أخر الاغتسال إلى وقت الصلاة لا يأثم. كذا في المحيط.

قد نقل الشيخ سراج الدين الهندي الإجماع على أنه لا يجب الوضوء على المحدث والغسل على الجنب والحائض والنفساء قبل وجوب الصلاة أو إرادة ما لا يحل إلا به. كذا في البحر الرائق كالصلاة وسجدة التلاوة ومس المصحف ونحوه. كذا في محيط السرخسي."

(1/ 16، الفصل الثالث في المعاني الموجبة للغسل، ط: رشيدية)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144308101300

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں