بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ربیع الثانی 1442ھ- 01 دسمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

میاں بیوی میں علیحدگی کے بعد بچوں کی پرورش کا حق / بچوں کے گزرے ہوئے زمانے کے نفقے کا مطالبہ


سوال

ایک شخص کی بیوی نے خلع لے لیا ہے، بچے ماں کے پاس ہیں، باپ کو ماں بچے نہیں دے رہی ہے، بلکہ اس کا دعوی ہے کہ اٹھارہ سال تک بچے اس کے پاس رہیں گے۔ ان کے تین بچے ہیں، دو لڑکے، ایک لڑکی، ایک لڑکے کی عمر 12 سال، دوسرے کی پندرہ سال اور لڑکی کی عمر تیرہ سال ہے، ان کا والد حیات ہے۔ 

1- اس صورت میں بچوں کی پرورش کا حق کس کو حاصل ہے، والد کو یا والدہ کو؟ اور والدہ کا یہ مطالبہ درست ہے یا نہیں؟

2- بچوں کی والدہ نے اب تک جو، ان کا نان ونفقہ ادا کیا ہے، کیا وہ بچوں کے والد پر ادھار ہے؟ یعنی والد سے اس سابقہ نفقہ کا مطالبہ کیا جاسکتا ہے؟

جواب

سوال کے جواب سے قبل تمہید کے طور پر عرض ہے کہ:

1۔ خلع دیگر مالی معاملات کی طرح  ایک مالی معاملہ ہے، جس طرح دیگر  مالی معاملات  معتبر ہونے کے لیے جانبین ( عاقدین) کی رضامندی ضروری ہوتی ہے اسی طرح شرعاً خلع  معتبر ہونے کے لیے بھی زوجین (میاں بیوی) کی رضامندی ضروری ہے،  شوہر کی اجازت اور رضامندی کے بغیر  بیوی کے حق میں عدالت کی طرف سے  اگر یک طرفہ خلع کی  ڈگری جاری ہوجائے تو شرعاً ایسا خلع معتبر نہیں ہے، اس سے نکاح ختم نہیں ہوتا، البتہ اگر شوہر اس پر رضامند ہوجائے تو وہ خلع معتبر ہوجاتا ہے۔

2۔ میاں بیوی میں علیحدگی کی صورت میں  لڑکیوں کی عمر نو سال  اور لڑکے کی عمر سات سال ہونے تک اس کی پروش کا حق اس کی والدہ کو حاصل ہوتا ہے، اور لڑکی کی عمر نو سال اور لڑکے کی عمر   سات سال  ہوجانے کے بعد  ان کی پرورش کا حق دار  ان کا والد ہوتا ہے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں:

1۔ اگر میاں بیوی کے درمیان باہمی رضامندی سے خلع  کے ذریعے علیحدگی ہوگئی ہے اور ان کے بچوں میں سے   لڑکوں کی عمر 12 اور 15 اور لڑکی کی عمر 13 سال ہے تو اب ان کی پروش کا حق دار ان کا والد ہے،  والدہ کا بچوں  کو والد کے حوالہ نہ کرنا شرعاً درست نہیں ہے، والد اپنے اس حق کے لیے  قانونی چارہ جوئی کا بھی حق رکھتا ہے۔ البتہ والد کی پرورش میں ہوں تو والدہ کو ان سے ملاقات کا حق حاصل ہوگا،   اس کے لیے بہتر یہی ہے کہ فریقین باہمی رضامندی سے  کوئی  دن اور وقت طے کرلیں، یا  اگر بچے والدہ کے پاس چھوڑنا طے ہوجائے تو آسانی کے لیے  ہفتہ میں ایک دن والد بچہ سے مل لیا کرے، تاکہ  کسی فریق کو پریشانی نہ ہو۔

2۔۔   میاں بیوی میں علیحدگی کے بعد  اگر بچوں کی والدہ اپنے طور پر بچوں پر خرچہ کرتی رہی ہو تو اب وہ ان کے والد سے  گزرے ہوئے زمانہ کے نفقہ کا مطالبہ نہیں کرسکتی، البتہ اگر والد خوشی سے دے دے تو یہ اس کی طرف سے تبرع و احسان ہوگا۔

بدائع الصنائع  میں ہے:

"فأحق النساء من ذوات الرحم المحرم بالحضانة الأم؛ لأنه لا أقرب منها ثم أم الأم ثم أم الأب؛ لأن الجدتين وإن استويتا في القرب لكن إحداهما من قبل الأم أولى."

(4 / 41، فصل فی بیان من لہ الحضانۃ، ط: سعید)

فتاوی شامی میں ہے:

"(والحاضنة) أما، أو غيرها (أحق به) أي بالغلام حتى يستغني عن النساء و قدر بسبع و به يفتى؛ لأنه الغالب."

(3/566، باب الحضانۃ، ط: سعید)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"وبعدما استغنى الغلام وبلغت الجارية فالعصبة أولى يقدم الأقرب فالأقرب، كذا في فتاوى قاضي خان."

 (1 / 542/باب الحضانۃ، ط: رشیدیہ)

وفیہ ایضا:

"الولد متى كان عند أحد الأبوين لايمنع الآخر عن النظر إليه وعن تعاهده، كذا في التتارخانية ناقلًا عن الحاوي."

(1 / 543/باب الحضانۃ، ط: رشیدیہ)

فتاوی شامی میں ہے:

"(قضى بنفقة غير الزوجة) زاد الزيلعي والصغير (ومضت مدة) أي شهر فأكثر (سقطت) لحصول الاستغناء فيما مضى.

(قوله: زاد الزيلعي والصغير) يعني استثناه أيضًا فلاتسقط نفقته المقتضى بها بمضي المدة كالزوجة، بخلاف سائر الأقارب. ثم اعلم أن ما ذكره الزيلعي نقله عن الذخيرة عن الحاوي في الفتاوى، وأقره عليه في البحر والنهر وتبعهم الشارح مع أنه مخالف لإطلاق المتون والشروح وكافي الحاكم.

مطلب في مواضع لايضمن فيها المنفق إذا قصد الإصلاح وفي الهداية: ولو قضى القاضي للولد والوالدين وذوي الأرحام بالنفقة فمضت مدة سقطت؛ لأن نفقة هؤلاء تجب كفاية للحاجة حتى لاتجب مع اليسار وقد حصلت بمضي المدة، بخلاف نفقة الزوجة إذا قضى بها القاضي؛ لأنها تجب مع يسارها فلاتسقط بحصول الاستغناء فيما مضى. اهـ وقرر كلامه في فتح القدير."

(3 / 633،  باب النفقہ، ط:سعید)

وفیہ ایضا:

"اعلم أن نفقة الزوجة لاتصير دينًا على الزوج إلا بالقضاء أو الرضا، فإذا مضت مدة قبل القضاء أو الرضا سقطت عنه والمراد بالمدة شهر فأكثر، وكذا نفقة الولد الصغير الفقير، وأما نفقة سائر الأقارب فإنها تسقط بالمضي، ولو بعد القضاء أو الرضا إلا إذا كانت مستدانةً بأمر قاض، فلاتسقط بالمضي هذا حاصل ما قدمه الشارح في النفقات. لكن ما ذكره من كون الصغير كالزوجة نقله هناك عن الزيلعي، وقدمنا هناك أنه مخالف لإطلاق المتون والشروح، و لما صرح به في الهداية و الذخيرة وشرح أدب القضاء والخانية من أن نفقة الولد والوالدين والأرحام إذا قضي بها ومضت مدة سقطت."

(5/ 390، فصل فی الحبس، کتاب القضاء، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144204200072

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں