بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 شوال 1443ھ 26 مئی 2022 ء

دارالافتاء

 

میاں بیوی کا ایک دوسرے کی شرم گاہ کو ہاتھ لگانا یا دیکھنا


سوال

کیامیاں بیوی ایک دوسرےکی شرم گاہ کوہاتھ لگاسکتےہیں یادیکھ سکتےہیں؟

جواب

بصورتِ مسئولہ میاں بیوی کا ایک دوسرے کی شرم گاہ کو ہاتھ لگانا اوردیکھناشرعًا جائز ہے، شرعاً  ممانعت نہیں، البتہ شرم گاہ کی طرف دیکھنا خلافِ حیا اور خلافِ  ادب ہونے کی وجہ سے نامناسب ہے، جیسا کہ ام المؤمین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ  نہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے کبھی میرے ستر کی طرف دیکھا اور نہ ہی میں نے کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے ستر کی طرف دیکھا۔

حدیث شریف میں ہے:

"مانظرت أو مارأیت فرج رسول الله صلی الله علیه وسلم قط."

(سنن ابن ماجه:138، أبواب النکاح، ط:قدیمی)

ترجمہ: ’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ستر کی طرف کبھی نظرنہیں اٹھائی، یایہ فرمایاکہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کاسترکبھی نہیں دیکھا۔‘‘

اس حدیث کے ذیل میں صاحبِ ’’مظاہرحِق‘‘  علامہ قطب الدین دہلویؒ لکھتے ہیں:

’’ایک روایت میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکے یہ الفاظ ہیں کہ :نہ توآں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے میراسترکبھی دیکھا اورنہ کبھی میں نے آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کاستردیکھا۔ان روایتوں سے معلوم ہواکہ اگرچہ شوہراوربیوی ایک دوسرے کاستردیکھ سکتے ہیں، لیکن آدابِ زندگی اورشرم وحیا  کاانتہائی درجہ یہی ہے کہ شوہراوربیوی بھی آپس میں ایک دوسرے کاسترنہ دیکھیں‘‘۔

(مظاہرحق، 3/262، ط: دارالاشاعت کراچی)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"(وأما أحكامه) فحل استمتاع كل منهما بالآخر على الوجه المأذون فيه شرعا، كذا في فتح القدير."

(كتاب النكاح، الباب الأول في تفسير النكاح شرعا وصفته وركنه،ج:1، ص:270، ط: رشيدية)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144309101395

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں