بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

مٹھائی کا وزن ڈبے کے ساتھ کرنا


سوال

میں اورنگ زیب الٰہی آپ کی توجہ ایک مسئلے کی طرف دلوانا چاہتا ہوں، اکثر جب مٹھائی خریدی جاتی ہے تو یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ دکاندار ڈبے کا وزن بھی مٹھائی میں شامل کرتا ہے جو کہ قانوناً بھی اور شرعاً بھی ناجائز ہے،ہاں اگر کوئی صارف ایک خوبصورت ڈبے کی مانگ کررہا ہے تو اس کی قیمت وصول کی جائے، لیکن اس کے ڈبے کا وزن مٹھائی بیچتے وقت شامل نہ کیا جائے، ہم سب کاروباری آدمی ہیں اور الحمد للہ مسلمان ہیں ، کاروباری طرزِ عمل یہ ہے کہ کسی بھی چیز کی قیمت مقرر کرنے کے لیے سارے اخراجات منافع کے ساتھ اس میں شامل کیا جاتا ہے، لہٰذا مٹھائی کو ایک مناسب ڈبے میں وزن کر کے بیچا جائے، کیوں کہ اس ڈبے کی قیمت مٹھائی کی قیمت مقرر کرتے وقت شامل کر لی گئی ہے، لہٰذا آپ سے گزارش ہے کہ اس سلسلے میں شرعی راہ نمائی کی جائے ،تاکہ اگر یہ طرز عمل غلط ہے تو اس کی طرف راہ نمائی کی جا سکے۔

جواب

واضح رہے کہ ہر ایسی چیز جو خریدار کے ہاتھ میں نہیں دی جاسکتی، یا وہ چیز ایسی ہو کہ اس کو تھیلی وغیرہ میں دینا عرف و رواج میں معیوب سمجھا جاتا ہو اور اس کو ڈبے میں دیا جاتا ہو، اس کو فروخت کرنے کے لیے اس چیز کو ڈبے میں ڈال کر فروخت کیا جاتا ہے، پھر ڈبے میں ڈال کر فروخت کرنے کی دو صورتیں رائج ہیں:

ایک صورت یہ ہے کہ ڈبے اور سامان دونوں کے مجموعی وزن کا اعتبار ہوتا ہے، پھر بعض اوقات اس کا مجموعی وزن ڈبے پر  بھی لکھ دیا جاتا ہے، جیسا کہ گھی وغیرہ کے ڈبوں پر لکھا ہوتا ہے اور اس کے لیے انگریزی میں گراس ویٹ (Gross weight) کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔

دوسری صورت یہ ہے کہ سامان کا وزن مستقلاً کیا جائے، ڈبے کا وزن علیٰحدہ ہو، یعنی سامان کے ساتھ ڈبے کا وزن شمار نہ کیا جائے، اس کے لیے انگریزی میں نیٹ ویٹ (Net weight) کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔

اب ہمارے معاشرےمیں عام طور پر مٹھائی لینے میں عرف یہی ہے کہ مٹھائی اور ڈبے کا وزن مجموعی طور پر کیا جاتا ہے،  اور یہ بات اتنی عام ہو چکی ہے کہ ہر کس و ناکس کو اس بات کا اچھی طرح علم ہوتا ہے کہ مٹھائی ڈبے کے وزن کے ساتھ بیچی جاتی ہے جس کے نتیجے میں مٹھائی کا وزن کم ہو جاتا ہے اور اس پر کسی کو کوئی اعتراض بھی نہیں ہوتا تو ایسی صورت میں بتلائے بغیر مٹھائی کو ڈبے کے وزن کے ساتھ بیچنا جائز ہوگا۔ 

باقی اگر کسی علاقہ میں یہ عرف نہ ہو بلکہ مٹھائی کا وزن ڈبے کو ہٹا کر مستقلاً کیے جانے کا عرف ہو تو وہاں ڈبے کے ساتھ مٹھائی کا وزن کرنا درست نہیں ہو گا۔

الاشباہ والنظائر لابن نجیم میں ہے:

"‌‌القاعدة السادسة: ‌العادة محكمة

وأصلها قوله عليه الصلاة والسلام {ما رآه المسلمون حسنا فهو عند الله حسن} قال العلائي: لم أجده مرفوعا في شيء من كتب الحديث أصلا، ولا بسند ضعيف بعد طول البحث، وكثرة الكشف والسؤال، وإنما هو من قول عبد الله بن مسعود رضي الله تعالى عنه مرفوعا عليه أخرجه أحمد في مسنده.

واعلم أن اعتبار ‌العادة والعرف يرجع إليه في الفقه في مسائل كثيرة حتى جعلوا ذلك أصلا."

(الفن الاول، صفحہ:79، طبع: دار الكتب العلمية)

بدائع الصنائع میں ہے:

"(ومنها) ‌أن ‌يكون ‌المبيع ‌معلوما وثمنه معلوما علما يمنع من المنازعة.

فإن كان أحدهما إلى المنازعة فسد البيع، وإن كان مجهولا جهالة لا تفضي إلى المنازعة لا يفسد ... ولأن الرضا شرط البيع والرضا لا يتعلق إلا بالمعلوم."

(کتاب البیوع، فصل في شرائط الصحة في البيوع، جلد: 5، صفحه: 156، طبع: دار الکتب العلمیة)

فتاوی شامی میں ہے:

"(و) بيع (زيت على أن يزنه بظرفه ويطرح عنه بكل ظرف كذا رطلا) لأن مقتضى العقد طرح مقدار وزنه كما أفاده بقوله (بخلاف شرط طرح وزن الظرف) فإنه يجوز كما لو عرف قدر وزنه."

(رد المحتار، كتاب البيوع، باب البيع الفاسد  5/ 76 ط: سعيد)

فتاویٰ محمودیہ میں ہے:

"سوال: دکان دار چینی لفافہ میں تول کر دیتا ہے، جب کہ لفافہ کی قیمت بھی ہے اور اس کا کچھ وزن بھی ہے، اسی وزن کی چینی گاہک کو کم ملتی ہے، کیا یہ لینا دینا درست ہے؟

جواب: لینے والا اور دینے والا راضی ہو تو درست ہے۔"

(کتاب البیوع، باب البیع الصحیح، جلد:23، صفحہ: 451، طبع: فاروقیہ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144403101616

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں