بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

مسواک کی ہر قسم روزے میں جائز ہے


سوال

 روزے کی حالت میں ہر طرح کی مسواک کرنا جائز ہے یا نہیں؟  جیسا کہ آج کل پیکٹ میں مسواک ہوتی ہے اور دیگر اسی طرح کی، کیا ہر مسواک کا یہی حکم ہے کہ اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا؟

جواب

واضح رہے کہ  روزہ کی حالت میں مسواک  کرنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا،  خواہ وہ سوکھی ہو یا  تر، یا  کسی پیکٹ میں بکتی ہو ، یا کھلی بغیر کسی پیکٹ کے۔

فتاوى قاضي خان ميں ہے:

"ولا بأس بالسواك الرطب واليابس في الغداة والعشي عندنا وعند الشافعي رحمه الله تعالى يكره في العشي وقال أبي يوسف رحمه الله تعالى يكره المبلول بالماء لأن فيه إدخال الماء في الفم متغير ضرورة وفي ظاهر الرواية لا بأس بذلك لأن المقصد هو التطهير فكان بمنزلة المضمضة وأما الرطب الأخضر فلا بأس به عند الكل."

(كتاب الصوم، الفصل الرابع فيما يكره للصائم وما لا يكره، ج:1 ص:182، ط: دار الكتب العلمية)

فتاوى هنديه میں ہے:

"ولا بأس بالسواك الرطب واليابس في الغداة والعشي عندنا قال أبو يوسف - رحمه الله تعالى - يكره المبلول بالماء، وفي ظاهر الرواية لا بأس بذلك، وأما الرطب الأخضر فلا بأس به عند الكل كذا في فتاوى قاضي خان."

(كتاب الصوم، باب فيما يكره للصائم وما لا يكره، ج:1 ص:220، ط: دار الكتب العلمية)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144509101158

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں