بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 ربیع الثانی 1443ھ 05 دسمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

مرحا نام رکھنا


سوال

میں نے اپنی بیٹی کا نام ”مرحا“  رکھا ہے،  جس کے معنی ہے:   ’’اللہ کا نور‘‘، کیا یہ نام رکھنا ٹھیک ہے ؟، اگر نہیں ہے تو راہ نمائی کیجیے کہ کس حدیث یا قرآن کی رو سے صحیح نہیں ہے؟

جواب

 لفظ" مرحا "اردو زبان میں مستعمل نہیں ہے،  عربی زبان میں اس کے دو معنی ہیں :

(۱)  "  ر ح ی" مادے سے : چکی کا محور ۔

(۲)   "م ر ح"  مادے سے : تکبر، اترانا، بہت خوب ،واہ واہ ، وغیرہ۔ 

”مرحا“ کے معنی کی مزید تفصیل کے لیے یہاں کلک کیجیے۔

باقی یہ لفظ "اللہ کے نور "کے معنی میں عربی اور اردو زبان میں مستعمل نہیں ہے۔ انٹرنیٹ پر چند ایک ویب سائٹ میں یہ معنی  لکھا گیا ہے،  لیکن عموماً انٹرنیٹ پر ناموں کی معانی کے متعلق معلومات ناقص ہوتی ہیں ؛ اس لیے اس پر کلی اعتماد نہیں کیا جاسکتا، جب تک کہ دیگر ذرائع  (لغت وغیرہ) سے اس معنی کی تصدیق نہ ہوجائے۔

نیز یہ واضح رہے کہ حضور ﷺ نے اچھے ناموں  (یعنی جن کا معنی اچھا ہو ) کے رکھنے کا حکم دیا ہے اور آپ ﷺ کی عادت شریفہ تھی کہ ایسے نام جن کے معنی غیر مناسب ہوتے تھے، وہ آپ ﷺ بدل دیا کرتے تھے؛ لہذا "مرحا" نام رکھنا مناسب نہیں ہے؛ کیوں  کہ اس کے  معانی  اچھے نہیں ہیں۔

ناموں کے سلسلے میں بہتر یہ ہے کہ انبیاءِ  کرام علیہم السلام یا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم وصحابیات رضی اللہ عنہن کے ناموں میں سے کوئی نام رکھا جائے، یا اچھا بامعنی عربی نام رکھا جائے۔

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں ہے:

"٤٧٥٣ - وعن سمرة بن جندب - رضي الله عنه - قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " «لا تسمين غلامك يسارا، ولا رباحا، ولا نجيحا، ولا أفلح، فإنك تقول: أثم هو؟ فلا يكون، فيقول لا» ". رواه مسلم."

(کتاب الاداب، باب الاسامی، ج نمبر ۷ ص نمبر ۲۹۹۷،دار الفکر)

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں ہے:

"وعن أبي الدرداء - رضي الله عنه - قال: «قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " تدعون يوم القيامة بأسمائكم وأسماء آبائكم، فأحسنوا أسماءكم» " رواه أحمد، وأبو داود."

(کتاب الاداب باب الاسامی ج نمبر ۷ ص نمبر ۳۰۰۴،دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144209200364

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں