بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 صفر 1444ھ 26 ستمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

میراث کی تقسیم


سوال

ہمارے ایک بھائی کا انتقال ہوا، ورثاء میں ورثاء میں ایک بیٹا اور  تین بیٹیاں ہیں،  یعنی ہمارا ایک بھتیجا اور تین بھتیجیاں ہیں،مرحوم کی والدین اور اس کی بیوی  پہلے انتقال کرگئے ہیں، مسئلہ یہ پوچھنا ہے کہ ہمارے والد صاحب کی جائیداد میں ایک دکان تھی، اس کا کرایہ آتا تھا اور ہم بھائی ،  بہن آپس میں تقسیم کررہے تھے،مرحوم بھائی کےحصے کی رقم ہم جمع کرتے تھے، اس دوران ہمارے دو بھتیجیوں(مرحوم بھائی کے  دو بیٹیوں) کی شادی کرنی تھی اور   ان کے والد  مرحوم کے حصے  سے  اندونوں بھتیجیوں   کے حصے میں  جو رقم بنتی تھی وہ ان کی شادی اخراجات سے کافی کم تھی ، اس لیے  باقی ایک  بھتیجی اور بھتیجے کی رضامندی سے ہم نے مرحوم کے سارے حصے سے ہم نے ان دو بھتیجیوں کی شادی کرالی اور ان کے درمیان یہ معاہدہ  ہوا کہ بعد میں دکان کے کرایہ میں سے مرحوم والد (ہمارے بھائی ) کے حصے میں جو رقم جمع ہوگی  وہ ہم(بھتیجے اور ایک بھتیجی) پر خرچ ہوگی، اور اس بات  کو باقی دو بھتیجیوں (جن  کی شادی ہونی والی تھی) منظور کرلیا۔

اب مرحوم بھائی کےحصہ میں دوبارہ  15 لاکھ 83 ہزار 1 سو تیس روپے جمع ہوگئے ہیں ،اب اس رقم سے  معاہدہ  کے مطابق اس بھتیجے اور بھتیجی کی شادی کرانی ہے ،ليكن  اچانك  ان  دو(شادی شدہ )بھتیجیوں   نے  مطالبہ كيا  کہ یہ رقم ہم چاروں کی ہے صرف ان دو (بھتيجے اور ايك  بھتیجی ) کی نہیں ہے، اور کہتی ہیں کہ ہمارے  نام پر اکاؤنٹ بناؤ،  جس میں  ہماری رقم جمع ہوگی اور یہ رقم ہم  چارو ں کے مشترک ہوگی، شرعًا ان دو بھتیجیوں کا  مطالبہ درست ہے یا نہیں؟ اگر درست ہے تو تقسیم کا طریقہ کار کیا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں جب سائل کے بھتیجے اور بھتیجیوں میں  مذکورہ معاہدہ ہوا تھا ، تو شرعًا اس معاہدہ کی پاسداری ضروری ہے، مرحوم کی دونوں  (شادی     شدہ) بیٹیوں  کے لیے مذکورہ مطالبہ جائز نہیں ،   مذکورہ رقم   اس بھتیجے اور بھتیجی کی شادیوں میں خرچ ہوگی، اس کے بعد  ان کے والد  کے حصے میں جتنی رقم آئی گی  وہ اس بھتیجے اور بھتیجیوں میں تقسیم ہوگی، بھتیجےکو دو حصے جبکہ تینوں بھتیجیوں کو ایک  ایک حصہ ملے گا۔

  رسول اللہ  صلی  اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:

لا أیمان لمن لاأمانة له، ولادین لمن لا عهد له، و الذي نفسي بیدہ، لا یستقیم دین عبد حتی یستقیم لسانه، ولایستقیم لسانه حتی یستقیم قلبه، ولا یدخل الجنة من لایأمن جارہ بوائقه۔

(المعجم الکبیر، للطبراني،۱۰/۲۲۷ ط: داراحیاء التراث العربي بیروت)

مزيد فرمايا:

"المسلمون ‌على شروطهم"۔

(المدونة ، 3/ 223، ط: دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم۔


فتوی نمبر : 144305100378

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں