بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

27 صفر 1444ھ 24 ستمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

بیوہ، تین بیٹوں اور ایک بیٹی میں میراث کی تقسیم


سوال

جناب والد  صاحب کی وفات کے بعد ایک مکان تھا جو کہ ہم سب نے رضا مندی سے ۲۵ لاکھ روپپے میں بیچ دیا ۔ہماری ماں ہے، ہم ۳ بھائی ہیں اور ایک شادی شدہ بہن ہے ۔ بس صرف اتنا بتا دیں کہ ان پیسوں میں بہن کا حصہ کتناہوا؟ 

جواب

صورت مسئولہ میں مرحوم والد کے تجہیز و تکفین کے اخراجات ادا کرنے کے بعد، اگر مرحوم پر کوئی قرض ہو تو وہ ادا کرنے کے بعد ، اگر نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی مال میں وصیت نافذ کرنے کے بعد باقی مال کو  8 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا،ا س میں سے مرحوم کی بیوی کو 1 حصہ، ہر بیٹے کو 2 حصے اور بیٹی کو 1 حصہ ملے گا۔

میت:8

بیوہبیٹابیٹابیٹابیٹی
12221

یعنی 25 لاکھ میں سے 312500 روپے، ہر بیٹے کو 625000 روپے اور بیٹی کو 312500 روپے ملیں گے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144310100242

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں