بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

میراث کی تقسیم کا طریقہ


سوال

میرے والد کا انتقال ہوگیا ہے۔،ان کی ایک بیوہ، چار بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں۔ ترکہ کی شریعت کے مطابق تقسیم کیسے ہو گی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مرحوم کے ترکہ کی تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ مرحوم کے حقوقِ متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد اگر مرحوم پر کوئی قرضہ ہو تو اس کو کل مال میں سے ادا کرنے کے بعد اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو اس کو ایک تہائی میں سے ادا کرنے کے بعد کل  منقولہ و غیر منقولہ جائیداد کو 96 حصوں میں تقسیم کرکے مرحوم کی بیوہ کو 12 حصے، ہر ایک بیٹے کو 14،14 حصےاور ہر ایک بیٹی کو 7،7 حصے ملیں گے۔

صورتِ تقسیم یہ ہو گی:

مرحوم والد:96/8

بیوہبیٹابیٹابیٹابیٹابیٹیبیٹیبیٹیبیٹی
17
12141414147777

یعنی سو فیصد میں سےمرحوم کی بیوہ کو 12.50 فیصد، ہر ایک بیٹے کو14.58 فیصد اور ہر ایک بیٹی کو 7.29 فیصد ملے گا۔

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144411102429

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں