بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

۳۳ لاکھ روپے پر زکات کا حکم


سوال

میرے پاس تقریباً 3300000/00 لاکھ روپے ہیں، جو مجھے میری ریٹائرمنٹ کے وقت (یعنی نومبر 2020 میں) ملے ہیں اور ایک گھر  میں ہم رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے، کیا اس رقم کی زکات مجھ پر فرض ہو گی ؟

جواب

اگر آپ پہلے سے صاحبِ  نصاب نہ ہوں تو مذکورہ رقم پر سال گزرنے کے بعد جتنی رقم آپ کی ملکیت میں ہوگی اس پر ڈھائی فیصد زکات ادا کرنا آپ پر لازم ہوگا۔ البتہ اگر آپ پہلے سے صاحبِ نصاب ہیں تو جس وقت آپ کی زکات کی ادائیگی کا وقت پورا ہوتا ہو اس  تاریخ تک جو ادائیگیاں اور قرضے آپ کے ذمے لازم ہوں، انہیں منہا کرکے بقیہ رقم  کی زکات  ادا کرنا لازم ہوگا۔  

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 267):

’’ (وشرطه) أي شرط افتراض أدائها (حولان الحول) وهو في ملكه (وثمنية المال كالدراهم والدنانير) لتعينهما للتجارة بأصل الخلقة فتلزم الزكاة كيفما أمسكهما ولو للنفقة (أو السوم) بقيدها الآتي (أو نية التجارة) في العروض.‘‘

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144209200146

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں