بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

میلاد نہ منانا محبت میں کمی کی علامت نہیں ہے


سوال

کچھ لوگ کہتے ہے جو لوگ میلاد نہیں مانتے اُن کے دل میں بغض ہے حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کی کمی ہے، ہم کیا کہیں ایسے لوگوں کو راہ نمائی فرمائیں؟

جواب

واضح رہے کہ  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت اور بعثت  امت محمدیہ کے لیےاللہ جل شانہ کی عظیم نعمت ہے اوراس نعمت کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے، بلکہ مؤمن کا ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہوسکتا جب تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت اس کو نہ ہو، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت واحوال، فضائل ومناقب اور حیات طیبہ کے مختلف گوشے اجاگرکرنا، اس پر  بیان وتقریر کرنا  یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کالازمی اثر اور  اللہ کی عظیم نعمت  کی تحدیث  کی ایک صورت ہے ،لیکن یہ  سب اسی وقت ہے جب کہ سنت وشریعت کے مطابق ہو، ماہ ربیع الاول  کو خاص کرکے میلاد النبی کے عنوان  سے جلسہ جلوس کا انعقادکرنا اور جشن وتہوار منانا نہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے، نہ صحابہٴ کرام اور تابعین عظام  رضوان اللہ علیہم اجمعین سے۔ صحابہٴ کرام  رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بڑھ کر سچا عاشق رسول اور جاں نثار کون ہوسکتا ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت یقینا ہم سے ہزاروں گنا زیادہ تھی، اور اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتاہے کہ وہ اُمور جو سننِ عادیہ کہلاتے ہیں، ان میں بھی یہ حضرات اتباع کا دامن نہیں چھوڑتے تھے، ان حضرات کی زندگی  کا ہر گوشہ محبت  رسول (ﷺ)کی عملی تصویر تھی، لیکن اس کے باوجود ان کی پوری زندگی میں مروجہ طریقہ پر محفلِ میلاد منانے کا ایک واقعہ بھی نہیں ملتا، بلکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پاکیزہ دور کے بعد بھی چھ سو سال تک کسی نے میلاد کے نام پر محافل سجانے کا اہتمام کبھی نہیں کیا، بلکہ وہ تو اس کے بجائے خود کوہمیشہ ہی اتباعِ نبوی میں ڈھالنے کی کوشش کرتے رہتے تھےاور یہی حقیقی حب نبوی کا اصل تقاضا ہے۔   چنانچہ حضور  صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت کا تقاضہ تو یہ تھا کہ اس طرح کی محافل کا انعقاد  بغیر کسی تخصیص وتعیین کے وقتا فوقتا  حدود شرع میں رہتے ہوئے ہوتا رہے، اس کا خاطر خواہ فائدہ بھی ہوتا، لیکن افسوس کہ اس کے برعکس اپنی دینداری اور محبت نبوی کو چند ایام میں محصور کرکے رکھ دیا گیا ہے اور پھر سال بھر آزاد چھوڑ دیاگیا ہے،جس کو امت کے نباض علماء نے بدعات میں شمار کیا ہے۔مزید تفصیل کے لیے حضرت مولانا یوسف لدھیانوی رحمہ اللہ کی کتاب ’’اختلاف امت اور صراط مستقیم‘‘ کا مطالعہ کریں۔

علامہ شاطبی رحمہ اللہ  فرماتے ہیں:

’’وأما غیر العالم وہو الواضع لہا یعنی البدعۃ ، فإنہٗ لایمکن أن یعتقدہا بدعۃ بل ہي عندہٗ مما یلحق بالمشروعات کقول من جعل یوم الاثنین یصام لأنہٗ یوم ولد النبي صلی اللہ علیہ وسلم وجعل الثاني عشر من ربیع الأول ملحقا بأیام الأعیاد لأنہٗ علیہ السلام ولد فیہ۔‘‘

    (الاعتصام، ج:۲، ص:۲۱۴، ط:بیروت)

’’حسن المقصد فی عمل المولد‘‘ میں ہے:

’’لا أعلم لہٰذا المولد أصلا فی کتاب اللّٰہ تعالٰی ولاسنۃ رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم ولاینقل عملہٗ عن أحد من علماء الأمۃ الذین ہم قدوۃ في الدین المتمسکون بآثار المتقدمین، بل ہو بدعۃ أحدثہا البطالون وشہوۃ نفس اعتنی بہا الأکالون الخ ۔‘‘

    (ص:۴۹-۴۶ ، ط: دار الکتب العلمیۃ)

 علامہ ابن الحاج رحمہ اللہ   اپنی کتاب ’’المدخل‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’فصل في المولد: ومن جملۃ ما أحد ثوہ من البدع مع اعتقادہم أن ذٰلک من أکبر العبادات وإظہار الشعائر ما یفعلونہٗ فی شہر ربیع الأول من المولد وقد احتوٰی ذٰلک علی بدع ومحرمات جملۃ ، فمن ذٰلک استعمالہم المغاني ۔‘‘

       (المدخل، ج:۲،ص:۳)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144403100392

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں