بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو الحجة 1445ھ 20 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

میاں بیوی میں تین طلاق پر اختلاف


سوال

السلام علیکم، مفتی صاحب،میری شادی کو دس سال ہو گئے ہیں میری اپنی بیوی سے لڑائی ہوئی اک دوسرے لڑکے کے پیچھے جس سے وہ چھپ چھپ کر فون پر بات کرتی تھی،جب میں نے اپنی بیوی کی اس حرکت کو پکڑ لیا اور اس سے کہا کہ قبول کرو کہ تمہاری اس لڑکے سے دوستی ہے تو وہ نہ مانی جس پرغصہ میں میں نے اپنی بیوی کو بغیر کسی نیت کے دو بار کہا کہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں،اس کے اگلے دن میری بیوی اپنے گھر چلی گئی اپنے بھائی کے ساتھ،اور وہاں جانے کے بعد وہ مجھ پر جھوٹے الزامات لگاتی ہے کہ میں نے اس سے ایک بار پہلے بھی طلاق کا لفظ کہا تھا جو کہ میں نے کبھی نہیں کہا اور اس کے بعد بھی وہ میرے ساتھ دو سال تک رہتی رہی،اور دوسرا الزام یہ لگاتی ہے کہ جس وقت میری بیوی اگلے دن اپنے بھائی کے ساتھ اپنے گھر جا رہی تھی جب میں نے یہ کہا تھا کہ میں تمہیں ایک بار نہیں دس بار طلاق دیتا ہوں،جب کہ میں نے ایسا نہیں کہا ،میں نے صرف یہ کہا تھا کہ تم میرے پر ایک بار نہیں دس بار الزام لگا دو میں کیا کہہ سکتا ہوں،اب میری بیوی اپنے گھر جا کے بیٹھ گئی ہے اور کہتی ہے کہ ہم نے فتویٰ لیا ہے کہ ہماری طلاق ہو گئی ہے۔جب میں نے دو بار سے زیادہ طلاق کے الفاظ استعمال ہی نہیں کئے تو پھر کسی نے کیسے فتوی جاری کر دیا ہے ۔ اور میری بیوی یہ سب اس لڑکے کے کہنے پر کر رہی ہے جس سے وہ فون پر بات کرتی ہے۔برائے مہربانی مجھے اس کا کوئی حل بتائیں اور مجھے بھی فتوی جاری کریں اس لئے کہ میری تین چھوٹی بیٹیاں ہیں۔اور میری بیوی کی ان حرکتوں کی وجہ سے میری بچیوں کی زندگی برباد ہو رہی ہے۔ برائے مہربانی جلد از جلد مجھے اس مسئلہ کا حل بتائیں کہ میری طلاق تو نہیں ہوئی نا تاکہ میں یہ فتوی دکھا کے اپنی بیوی کو واپس لا سکوں کہ ہماری تین طلاقیں نہیں ہوئیں اور ابھی بھی ہمارے پاس رجوع کا حق ہے۔

جواب

صورت مسئولہ میں اگر آپ کو اس بات کا مکمل یقین ہے کہ آپ نے اب تک صرف دو بار ہی طلاق کے الفاظ کہے ہیں اور عدت بھی نہیں گزری تو اس سے آپ کی بیوی پر دو طلاقیں ہی واقع ہوئی ہیں اور آپ اپنی بیوی سے رجوع کر سکتے ہیں۔ اور اگر آپ نے اس سے زیادہ بار طلاق کے الفاظ کہے ہیں تو آپ کا رشتہ ختم ہو چکا ہے اور رجوع کی گنجائش نہیں ہے،اور اگر اس کے بعد بھی آپ ساتھ رہے تو یہ سخت گناہ کی بات ہوگی اور مرنے سے پہلے دنیا ہی میں اس کا انجام عبرت ناک ہوتا ہے۔ لہذا اپنے الفاظ پر خوب غور و فکر کر کے ہی کوئی قدم اٹھائیں کہ دنیا کی چند روزہ زندگی کے لئے اپنی آخرت خراب کرنا نقصان کا سودا ہے۔


فتوی نمبر : 143408200009

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں