بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

28 جمادى الاخرى 1441ھ- 23 فروری 2020 ء

دارالافتاء

 

میاں بیوی کا ایک کمرہ میں نماز پڑھنا


سوال

اگر میاں اور بیوی ایک ہی کمرہ میں انفرادی نماز ادا کررہے ہوں تو اس کے لیے کن چیزوں کا خیال رکھنا ضروری ہے؟ مثلاً  کیا میاں کو بیوی سے کچھ آگے نماز پڑھنی چاہیے؟ اگر اتنا قریب ہوں کہ جسم کا کوئی حصہ آپس میں چھو جائے تو کیا اس سے نماز میں فرق پڑتا ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔

جواب

میاں بیوی جب انفرادی نماز پڑھ رہے ہوں تو  ان کے بالکل برابر کھڑے ہونے یا کچھ فاصلے سے برابر کھڑے ہونے یا بیوی کے آگے ہونے کی صورت میں نماز تو فاسد نہیں ہوگی، لیکن اس طرح نماز ادا کرنا مکروہ ہے، لہٰذا کمرے میں جگہ ہو تو مرد کو آگے کھڑا ہونا چاہیے، اسی طرح دونوں کا بالکل متصل ہوکر نماز پڑھنا کہ جسم مس کرے، ناپسندیدہ ہے، درمیان میں ایک نمازی کا فاصلہ چھوڑ دینا چاہیے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143101200625

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے