بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1444ھ 03 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

میزبان کے اصرار پر خطیب کا بیان کرتے وقت اپنے آگے پیسوں کےلیے ٹوکری رکھنے کا حکم


سوال

میزبان کے اصرار پر خطیب کا بیان کرتے وقت اپنے آگے پیسوں کےلیے ٹوکری رکھنا کیسا ہے؟

جواب

 وا ضح رہے کہ جس آدمی کے پاس ایک دن کا کھانا ہو اور ستر ڈھانکنے کےلیے  کپڑا ہو اس کے لیے لوگوں سے مانگنا جائز نہیں ہے، اسی طرح جو آدمی کمانے پر قادر ہو اس  کے لیے بھی سوال کرنا جائز نہیں، البتہ اگر کسی آدمی پر فاقہ ہو یا واقعی کوئی سخت ضرورت پیش آگئی ہو جس کی وجہ سے وہ انتہائی مجبوری کی بنا پر سوال کرے تو اس کی گنجائش ہے، لیکن مانگنے کو عادت اور پیشہ بنالینا بالکل بھی جائز نہیں ہے، حدیث شریف میں آتا ہے کہ جو شخص بلاضرورت مانگتا ہے، قیامت کے دن اس کا یہ مانگنا اس کے چہرے پر زخم بن کر ظاہر ہوگا۔ ایک روایت میں ہے کہ جو اپنا مال بڑھانے کے لیے سوال کرتاہے تو یہ جہنم کے انگارے جمع کررہاہے، اب چاہے تو  کم جمع کرے یا زیادہ۔ اور جن کے بارے میں علم ہو کہ یہ پیشہ ور بھکاری ہیں، ایسے افراد کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے۔

لہذابلا ضرورت اپنی ذات کےلیے سوال کرنا شرعاً جائز ہی نہیں ہے،  اگر کوئی میزبان کسی خطیب کے آگے محض اپنی ذاتی ضروریات کےلیے چندہ کےلیے پیسوں کا ٹوکرا رکھتا ہے، اور وہ میزبان واقعۃً محتاج نہ ہو، تو شرعاً یہ جائز نہیں ہے، اور اس وجہ سے خطیب بھی گناہ گار ہوگا؛ کیوں کہ یہ تعاون علی المعصیت(گناہ پر مددکرنا) ہے، اور قرآنِ کریم میں اس سے منع فرمایاہے۔

تاہم اگر ذاتی ضرورت نہ ہو، بلکہ  کسی دینی  ضرورت کے لیے مثلاً مسجد یا مدرسہ یا کسی اور دینی مقصد کے لیے  چندہ کی ضرورت ہو تو  چند شرائط کی رعایت کرتے ہوئے مسجد میں چندہ کرنا جائز ہے، وہ شرائط یہ ہیں:

۱۔ اس سے کسی نمازی کی نماز میں خلل نہ ہو، ۲۔کسی کو تکلیف نہ دی جائے، مثلاً گردن پھلانگنا وغیرہ ، ۳۔ مسجد میں شور وشغب نہ کیا جائے،  ۴۔ چندہ زبردستی نہ لیا جائے اور چندہ نہ دینے پر  کسی کو عار نہ دلائی جائے۔

تاہم بہتر  یہی ہے کہ چندہ مسجد سے باہر  کیا جائے، اور ضرورت پر مسجد میں صرف اعلان کرلیا جائے،  شدید ضرورت کے مختلف مواقع پر نبی کریم ﷺ کی طرف سے تعاون کا اعلان اور بعض مواقع پر (جیسے غزوہ تبوک، اور ایک ضرورت مند قبیلے کے وفد کی آمد کے موقع پر) آپ ﷺ کا خود مسجد میں امداد جمع کرنا منقول ہے۔ 

قرآنِ کریم میں اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:

" وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ" [المائدة: 2]

ترجمہ: "   ا ور گناہ اور زیادتی  میں ایک دوسرے کی اعانت مت کرو اور اللہ  تعالٰی سے ڈا کرو  بلا شبہ اللہ تعالٰی   سخت سزر دینے والے ہیں۔"

(از بیان القرآن)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"ويكره التخطي للسؤال بكل حال.

(قوله: ويكره التخطي للسؤال إلخ) قال في النهر: والمختار أن السائل إن كان لايمر بين يدي المصلي ولايتخطى الرقاب ولايسأل إلحافاً بل لأمر لا بد منه فلا بأس بالسؤال والإعطاء اهـ ومثله في البزازية. وفيها: ولايجوز الإعطاء إذا لم يكونوا على تلك الصفة المذكورة. قال الإمام أبو نصر العياضي: أرجو أن يغفر الله - تعالى - لمن يخرجهم من المسجد. وعن الإمام خلف بن أيوب: لو كنت قاضياً لم أقبل شهادة من يتصدق عليهم. اهـ. وسيأتي في باب المصرف أنه لايحل أن يسأل شيئاً من له قوت يومه بالفعل أو بالقوة كالصحيح المكتسب ويأثم معطيه إن علم بحالته لإعانته على المحرم."

(کتاب الصلاۃ، باب باب الجمعة، ج: 2، ص: 164، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144404100400

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں