بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1444ھ 07 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

میزان بینک یا کسی اور اسلامک بینک سے ہوم لون لینا


سوال

میزان بینک یا کسی اور اسلامک بینک سے ہوم لون لینا جائز ہے؟

جواب

        ملک کے جمہور علمائے کرام اور مقتدر مفتیانِ کرام کی رائے کے مطابق میزان بینک سمیت دیگر موجودہ   اسلامک بینکوں کے معاملات مکمل طور  پر شرعی اصولوں کے موافق نہیں ہیں، اس لیے میزان بینک سمیت دیگر موجودہ اسلامک بینکوں سے house loan (گھر خریدنے کے لیے قرضہ) لینا شرعاً جائز نہیں ہے؛  کیوں کہ  ہوم لون  ان کی اصطلاح میں "شرکتِ متناقصہ "کے تحت  جاری ہوتا ہے اور اس معاملے میں بہت سے شرعی اصولوں کی خلاف ورزی لازم آتی ہے، مثلاً ایک ہی معاملے میں  كئي عقود (بیع، شرکت اور اجارہ) کو جمع کرنا اور عملاً ایک دوسرے کے لیے شرط قرار دینا وغیرہ۔ تفصیلی معلومات کے لیے ہماری کتاب ’’مروجہ اسلامی بینکاری‘‘ کا مطالعہ مفید رہے گا۔ 

احکام القرآن للجصاص میں ہے:

وعلى أن النهي عن أكل مال الغير معقود بصفة وهو أن يأكله بالباطل، وقد تضمن ذلك أكل أبدال العقود الفاسدة كأثمان البياعات الفاسدة۔

(باب التجارات وخیار البیع (3/128)،ط.دار إحياء التراث العربي - بيروت، تاريخ الطبع: 1405)

حدیث شریف میں ہے:

 « إن الحلال بين وإن الحرام بين وبينهما مشتبهات لا يعلمهن كثير من الناس فمن اتقى الشبهات استبرأ لدينه وعرضه ومن وقع فى الشبهات وقع فى الحرام كالراعى يرعى حول الحمى يوشك أن يرتع فيه ألا ! وإن لكل ملك حمى ألا وإن حمى الله محارمه».

أخرجه مسلم في«باب أخذ الحلال وترك الشبهات» (5/ 50) برقم (4178)، ط. دار الجيل  بيروت

ترجمہ: بے شک حلال ظاہر ہے اور حرام ظاہر ہے اور ان دونوں کے درمیان مشتبہ چیزیں ہیں جن کو بہت سے لوگ نہیں جانتے، پس جس شخص نے مشتبہ چیزوں سے پرہیز کیا اس نے اپنے دین اور اپنی عزت کو پاک ومحفوظ کر لیا ، اور جو شخص مشتبہ چیزوں میں مبتلا ہوا وہ حرام میں مبتلا ہو گیا، اور اس کی مثال اس چرواہے کی سی ہے جو ممنوعہ چراگاہ کی مینڈ پر چراتا ہے، قریب ہے کہ اس کے جانور اس ممنوعہ چرا گاہ میں گھس کر چرنے لگیں، جان لو ہر بادشاہ کی ممنوعہ چراگاہ ہوتی ہے اور یاد رکھو اللہ تعالیٰ کی ممنوعہ چراگاہ حرام چیزوں ہیں۔

عمدة القاري ميں ہے:

وقال الخطابي كل شيء يشبه الحلال من وجه والحرام من وجه هو شبهة والحلال اليقين ما علم ملكه يقينا لنفسه والحرام البين ما علم ملكه لغيره يقينا والشبهة ما لايدري أهو له أو لغيره فالورع اجتنابه ثم الورع على أقسام واجب كالذي قلناه ومستحب كاجتناب معاملة من أكثر ماله حرام ومكروه كالاجتناب عن قبول رخص الله والهدايا۔

(«كتاب البیوع »«باب تفسير المشبهات» (11/236)،ط. دارالكتب العلمية. الطبعة الاولى: 1421ه)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144201201072

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں