بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1444ھ 03 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

میزان بینک میں سیونگ اکاونٹ کھولنے کا حکم


سوال

کیا میزان بینک میں سیونگ اکاونٹ کھولنا اور اس پر نفع لینا جائز ہے ؟تفصیل سے راہ نمائی فرمائیں ۔

جواب

واضح رہے کہ بینک  ایک سودی ادارہ ہے جس طرح سود لینا اور استعمال کرنا ناجائز ہے،  اپنی رضامندی اور اختیار سے سود کا معاہدہ کرنا بھی ناجائز ہے،  لہذا کسی بھی بینک میں سیونگ اکاؤنٹ کھلوانے میں چوں کہ سودی معاہدہ ہوتا ہےاور اس میں جمع شدہ رقم پر بینک کی طرف سے نفع ملتا ہے جو کہ قرض پر نفع ملنے کی وجہ سے حرام ہے ؛ لہذا  میزان بینک میں بھی سیونگ اکاؤنٹ کھلوانا اور اس پر نفع لینا  شرعاً جائز  نہیں ، ضرورت پڑے تو کرنٹ اکاونٹ کھولنے کی اجازت ہوگی۔

فتاوی شامی میں ہے :

"( كلّ قرض جرّ نفعًا حرام) أي إذا كان مشروطًا كما علم مما نقله عن البحر".

(کتاب البیوع،فصل فی القرض،ج:5،ص:166،سعید)

 تفصیلی معلومات کے لیے  "مروجہ اسلامی بینکاری" (تجزیاتی مطالعہ، شرعی جائزہ، فقہی نقد وتبصرہ) ( مکتبہ بینات، جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی)  کا مطالعہ کیا جائے۔

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144404100969

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں