بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1445ھ 13 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

معیار حق ہونے کا مطلب/ کیا تمام صحابۂ رسول معیار حق ہیں؟


سوال

 معیارِ حق ہونے کا مطلب کیا ہے؟ نیز کیا تمام صحابۂ رسول معیار حق ہیں؟

جواب

"معیار" کا معنٰی ہے:" کسوٹی، جانچنے اور پرکھنے کا آلہ"، معیارِ حق ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جس کو دیکھ کر حق اور باطل میں امتیاز ہوجائے اور جس کی اتباع کرنے سے آدمی حق کو پالیتا ہو۔

اہل سنت والجماعت کے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام صحابہ معیارِ حق ہیں، صحابہ رضوان  اللہ تعالٰی علیہم اجمعین نے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جس قدر دین بر حق سیکھا وہ بعد میں آنے والوں تک بعینہ اسی طرح پہنچایا، اس میں اپنی طرف سےکوئی اضافہ نہیں کیا، کوئی حکم نہیں بدلا، کوئی بات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف غلط منسوب نہیں کی، جس بات کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے یہ فرمایاہے کہ یہ حضرت رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کاارشاد ہے، وہ بالکل صحیح ہے، اس کو ماننا لازم ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر اگر اعتماد نہ ہو  اوراُن کو  دین کے نقل کرنے میں معیارِ حق تسلیم نہ کیا جائے، تو پھر سارے دین سے اعتماد ختم ہوجائے گا اور صحیح دین دوسروں تک پہنچنے کی کوئی صورت نہیں رہے گی، کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ  علیہ وسلم اور آپ کی امت کے درمیان واسطہ صحابۂ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین ہیں ، اگر اس واسطہ پر اعتماد نہ رہے اور اس واسطہ کو معیارِ حق تسلیم نہ کیاجائے تو پورا دین جوہمیں اسی  واسطے سے پہنچاہےاس  پر کیسے اعتماد رہے گا۔قرآن کریم میں اللہ تعالٰی  نےصحابۂ کرام رضوان اللہ عنہم کے ایمان کو اور لوگوں کے لیے معیار قرار دیاہے، چناں چہ ارشادِ خداوندی ہے:

"فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنْتُمْ بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوْا." (البقرة: 137)

ترجمہ: سواگر وہ  بھی اسی طریق سے ایمان لے آئیں  جس طریق سے تم (اہلِ اسلام) ایمان لائے ہو تب تو وہ بھی راہِ حق پر لگ جائیں گے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کے بارے میں فرمایا کہ :

"میرے صحابہ ستاروں کے مانند ہیں، اُن میں سے جس کی بھی تم اتباع کروگے ہدایت پاؤگے۔"

ایک اور حدیث شریف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کا ارشادِ گرامی ہےکہ:

"میں نے  اپنے بعداپنے صحابہ کے اختلاف کے بارے میں اپنے رب سےسوال کیا، تو میرے رب نے مجھے وحی کی کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! تیرے صحابہ میرے نزدیک آسمان میں ستاروں کے مانند ہیں، جن میں سے بعض ستارے دوسرے بعض سے (اپنی نورانیت اور روشنی میں)  زیادہ قوی ہیں،(لیکن) ہر ایک ستارے کے لیے نور  اور روشنی ہے( اسی طرح صحابہ کرام میں سے بھی بعض، بعض سے افضل ہیں، لیکن نور اور ہدایت پر ہر ایک ہے) تو جس نے اُن کے اختلاف میں سے کچھ  بھی لیا (یعنی کسی بھی صحابی کے قول کو اختیارکیا) تو وہ میرے نزدیک ہدایت پر ہے۔"

 ان احادیث سے  بھی واضح طور پر معلوم ہوا کہ صحابۂ کرام سب کے سب معیارِ حق ہیں۔

مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"(وعن ابن مسعود قال: من كان مستنا) : بتشديد النون أي: مقتديا بسنة أحد وطريقته (فليستن بمن قد مات) أي: على الإسلام والعلم والعمل، وعلم حاله وكماله على وجه الاستقامة. قال الطيبي: أخرج الكلام مخرج الشرط والجزاء تنبيها به على الاجتهاد وتحري طريق الصواب بنفسه بالاستنباط من معاني الكتاب والسنة، فإن لم يتمكن فليقتد بأصحاب رسول الله - صلى الله عليه وسلم - لأنهم نجوم الهدى وكان ابن مسعود يوصي القرون الآتية بعد قرون الصحابة والتابعين باقتفاء أثرهم والاهتداء بسيرهم وأخلاقهم اهـ.

والظاهر أنه يوصي التابعين ومن بعدهم تبع لهم بالاقتداء بالصحابة، لكن خص أمواتهم لأنه علم استقامتهم على الدين واستدامتهم على اليقين بخلاف من بقي منهم حيا فإنه يمكن منهم الافتتان ووقوع المعصية والطغيان، بل الردة والكفران لأن العبرة بالخاتمة، وهذا تواضع منه في حقه - رضي الله عنه - لكمال خوفه على نفسه، ولما رأى من الفتن العظيمة ووقوع الهالكين فيها وإلا فهو ممن يقتدى به حيا وميتا، وقد شهد له عليه الصلاة والسلام بالجنة وقال: " «رضيت لأمتي ما رضي لهم» " وأنه أفقه الصحابة بعد الخلفاء الأربعة رضوان الله تعالى عليهم أجمعين .....(أولئك أصحاب محمد - صلى الله عليه وسلم) : إشارة إلى من مات، أفرد الضمير في " مات " نظرا إلى اللفظ. وقال: (أولئك) نظرا إلى المعنى .....(كانوا أفضل هذه الأمة) أي: أمة الإجابة وهم خير أمة فكانوا أفضل الأمم .....(أبرها قلوبا) أي: أطوعها وأحسنها وأخلصها وأعلمها أو أكثرها إيمانا قال تعالى: {ولكن البر من آمن بالله واليوم الآخر} [البقرة: 177] الآية. وقال عز وجل: {أولئك الذين امتحن الله قلوبهم للتقوى} [الحجرات: 3] أي ضربها بأنواع المحن والتكليفات الصعبة والشدائد التي لا تطاق لأجل أن يختبر ما عندها من التقوى، إذ لا تظهر حقيقتها إلا عند ذلك فوجدها مع ذلك على غاية من الانقياد والرضا أو أخلصها للتقوى من قولهم: امتحنت الذهب وفتنته إذا أذبته بالنار حتى خرج خالصا نقيا، أو أذهب الشهوات والحظوظ الدنيوية عنها كما قاله عمر - رضي الله عنه -. (وأعمقها علما) أي: أكثرها غورا من جهة العلم وأدقها فهما وأوفرها حظا من العلوم المختلفة كالتفسير والحديث والفقه والقراءة والفرائض والتصوف لسعة صدورهم وشرح قلوبهم، فكان كل واحد منهم أمة جامعا للشمائل السنية والفضائل البهية لا توجد غالبا إلا في جماعة، وأما من بعدهم فقد افترقوا فبعضهم صار مفسرا وبعضهم محدثا وغير ذلك لعدم تلك القابلية العظمى والاستعدادات الكاملة العليا....(وأقلها تكلفا) أي: في العمل .... اختارهم الله) أي: من بين الخلائق (لصحبة نبيه) : الذي كان كالإكسير في كمال التأثير (ولإقامة دينه) : فإنهم نقلة أقواله وحملة أحواله إلى من بعدهم، وأيضا جاهدوا حق الجهاد حتى فتحوا البلاد وأظهروا الدين للعباد، مع اشتغالهم بأحوال المعاش والمعاد، جزاهم الله عن المسلمين خير الجزاء في يوم التناد (فاعرفوا لهم فضلهم) أي: على غيرهم وإن كان بعضهم أفضل من بعض، أي زيادة قدرهم في كل شيء من العلم والعمل والغزو والإنفاق ومزية الثواب وغيرها كما قال تعالى: {لا يستوي منكم من أنفق من قبل الفتح وقاتل أولئك أعظم درجة من الذين أنفقوا من بعد وقاتلوا} [الحديد: 10] (واتبعوهم) : بتشديد التاء أي: كونوا متبعين لهم حال كونكم ماشين (على أثرهم) : بفتحهما وبكسر الهمزة وسكون المثلثة أي: عقبهم في العلم والعمل، فإنهم اتبعوا أثر النبي - صلى الله عليه وسلم - على ما شاهدوا من الأقوال والأحوال والأفعال، ولذا قال صلى الله عليه وسلم: " «أصحابي كالنجوم بأيهم اقتديتم اهتديتم» " (وتمسكوا) أي: خذوا واعملوا (بما استطعتم) : وفيه إشارة إلى عجز المتأخرين عن المتابعة الكاملة، لكن ما لا يدرك كله لا يترك كله والمحبة على قدر المتابعة كما أن المتابعة على قدر المحبة. قال تعالى: {قل إن كنتم تحبون الله فاتبعوني يحببكم الله} [آل عمران: 31] (من أخلاقهم) : الحميدة (وسيرهم) : السعيدة (فإنهم كانوا على الهدي المستقيم) : لأنهم كانوا أتباع الرسول الكريم في الدين القويم.

قال الطيبي في قوله: " فاعرفوا لهم " قد أجمل هاهنا ثم فصل بقوله: فضلهم كما في قوله تعالى: {رب اشرح لي صدري} [طه: 25] والمراد من العرفان ما يلازمه من متابعتهم ومحبتهم والتخلق بأخلاقهم، فإن قوله: " واتبعوهم " عطف على اعرفوا على سبيل البيان، وقوله: " على أثرهم " حال مؤكدة من فاعل " اتبعوا " نحو قوله تعالى: {ثم وليتم مدبرين} [التوبة: 25] ويجوز أن يكون من المفعول اهـ. وخطر بالبال، والله أعلم بالحال أن هذا من ابن مسعود - رضي الله عنه - شهادة على حقية الأصحاب المتقدمين ردا على الرافضة والملحدين."

(كتاب الإيمان، باب الاعتصام بالكتاب والسنة، 276/1، ط: دار الفكر)

وفیہ ایضًا:

"(وعن عمر بن الخطاب - رضي الله عنه - قال: سمعت رسول الله يقول: (سألت ربي عن اختلاف أصحابي) أي: عن حكمة تخالفهم في فروع الشرائع (من بعدي، فأوحى) أي: الله كما في نسخة (إلي: يا محمد! إن أصحابك عندي بمنزلة النجوم في السماء) أي: في إظهار الهداية وإبطال الغواية كما قال تعالى: {وبالنجم هم يهتدون} [النحل: 16] (بعضها أقوى من بعض)، أي: بحسب مراتب أنوارها المقدرة لها (ولكل نور)، أي: وكذلك لكل من الأصحاب نور بقدر استعداده (فمن أخذ بشيء مما هم عليه) : بيان شيء (من اختلافهم) : بيان ما (فهو عندي على هدى) ، وفيه أن اختلاف الأئمة رحمة للأمة. قال الطيبي: المراد به الاختلاف في الفروع لا في الأصول، كما يدل عليه قوله: فهو عندي على هدى. قال السيد جمال الدين: الظاهر أن مراده - صلى الله عليه وسلم - الاختلاف الذي في الدين من غير اختلاف للغرض الدنيوي، فلا يشكل باختلاف بعض الصحابة في الخلافة والإمارة. قلت إن اختلاف الخلافة أيضا من باب اختلاف فروع الدين الناشئ عن اجتهاد كل، لا من الغرض الدنيوي الصادر عن الحظ النفسي، فلا يقاس الملوك بالحدادين (قال) أي: عمر (وقال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: ( «أصحابي كالنجوم» ) أي: فاقتدوا بهم جميعهم، أو بأكثرهم وإن لم يتيسر. (فبأيهم اقتديتم اهتديتم) . وكأنه أخذ من هذا بعضهم فقال: من تبع عالما لقي الله سالما."

(كتاب المناقب، باب مناقب الصحابة، 3882/9، ط: دار الفکر)

سنن الترمذی میں ہے:

"عن عبد الله بن عمرو، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ليأتين على أمتي ما أتى على بني إسرائيل ..... وإن بني إسرائيل تفرقت على ثنتين وسبعين ملة، وتفترق أمتي على ثلاث وسبعين ملة، كلهم في النار إلا ملة واحدة»، قالوا: ومن هي يا رسول الله؟ قال: «ما أنا عليه وأصحابي»."

(أبواب الإيمان، باب ماجاء في افتراق هذه الأمة، 26/5، ط: شركة مكبتةو مطبعة مصطفى البابي الحلبي)

ترجمہ:حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروى ہے کہ رسول اکرم صلى اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری اُمت پر وہ سب کچھ آئے گا، جو بنی اسرائیل پر آچکا ہے...بنی اسرائیل کے بہترفرقے ہوگئے تھے، میری اُمت کے تہتر فرقے ہوجائیں گے، وہ سب دوزخی ہوں گے، سوائے ایک ملت  کے،  صحابہ کرام نے عرض کیا: وہ ملت کون سی ہے؟ ارشاد ہوا "مَا اَنَا عَلَیْہِ وَاَصْحَابِیْ" یہ وہ ملت ہے جس پر میں ہوں اور میرے صحابہ ہیں۔

المنہل الروی فی مختصر علوم الحدیث النبوی میں ہے:

"الثاني ‌الصحابة ‌كلهم عدول مطلقا لظواهر الكتاب والسنة وإجماع من يعتد به بالشهادة لهم بذلك سواء فيه من لابس الفتنة وغيره ولبعض أهل الكلام من المعتزلة وغيرهم في عدالتهم تفصيل واختلاف لا يعتد به وأفضلهم على الإطلاق أبو بكر ثم عمر بإجماع أهل السنة ثم عثمان ثم علي عند جمهورهم."

(‌‌النوع السادس في أدب طالب الحديث، ص: 112، ط: دار الفکر)

فتاوٰی محمودیہ میں ہے:

"سوال: بعض لوگ کہتے ہیں کہ صحابہ معیارِ حق نہیں ہیں، اور نہ کوئی پیغمبر سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی معیارِ حق ہیں، اس کا مفصل جواب تحریر فرمائیں۔

الجواب حامدًا ومصلیًا: ہر ہر پیغمبرنے اللہ کے دین کو صحیح پہنچایا ہے، اس میں ذرہ برابر تصرف نہیں کیا، کمی، زیادتی نہیں کی، کوئی  حکم نہیں چھپایا، کوئی اپنی طرف سے اضافہ نہیں کیا، کوئی حکم نہیں بدلا، کوئی بات اللہ پاک کی طرف غلط منسوب نہیں کی، تمام انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام بالکل معیارِ حق ہیں۔

صحابہ رضوان اللہ تعالٰی علیہم اجمعین نے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جس قدر دین بر حق سیکھا وہ دوسروں کو اسی طرح پہنچایا، اس میں اپنی طرف سے اضافہ نہیں کیا، کوئی حکم نہیں بدلا، کوئی بات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف غلط منسوب نہیں کی، جس بات کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے یہ فرمایاہے کہ یہ حضرت رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کاارشاد ہے، وہ بالکل صحیح ہے، اس کو ماننا لازم ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر اگر اعتماد نہ ہو اور اُن کے نقلِ دین کو حق تسلیم نہ کیا جائے، تو پھر سارے دین سے اعتماد ختم ہوجائے گا اور صحیح دین دوسروں تک پہنچنے کی کوئی صورت نہیں رہے گی، جیساکہ روافض نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر اعتماد نہیں کیا تو اُن کے نزدیک نہ احادیث قابل قبول ہیں اور نہ قرآن پر اُن کو اعتماد ہے، اُن کے پاس دین برحق پہنچنے کی کوئی صورت نہیں ہے، وہ اس نعمتِ الٰہی اور ذریعۂ نجات سے محروم ہیں، لہٰذا دین نقل کرنے میں صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم معیارِ حق ہیں"۔

(کتاب العقائد، باب الفرق، ما یتعلق بالمودودیۃ، عنوان: معیارِ حق کی تشریح، 205/2، ط: ادارۃ الفاروق)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144404100683

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں