بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 ذو الحجة 1445ھ 12 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

میاں بیوی پر مباشرت کے وقت کب غسل واجب ہوگا؟/ بیوی کی شرم گاہ میں انگلی ڈالنے سے غسل کا وجوب؟


سوال

1) کیا میاں بیوی  دورانِ ہم بستری اگر دونوں یا کوئی ایک فارغ (discharge) نہ ہو تو کیا غسل واجب ہوگا ؟ اور کس کس پر ؟

    2)بیوی کو اُنگلی سے سُکون دینا لیکن بیوی کا (discharge) نہ ہونا ،کیا اس سے بیوی پر غسل واجب ہوگا ؟

3) میاں کے عضو کا بیوی میں داخل ہونے سے غسل واجب ہو جاتا ہے یا (discharge) ہونے پر؟ اور کس کس پر؟

جواب

1، 3) غسل  واجب ہونےکے ليے میاں ، بیوی دونوں کا یا ایک کا فارغ ہونا ضروری نہیں ہے، محض دخول ہی سے دونوں پر غسل واجب ہو جاتا ہے۔

2)بیوی کی  شرم گاہ  میں انگلی ڈالنے سے  اگر بیوی کو انزال ہوجائے تو عورت پر بالاتفاق غسل واجب ہوگا اور اگر  انزال نہیں ہوا،   صرف شہوت ہوئی تو بعض فقہاء کے نزدیک   اس صورت میں بھی  اس پر غسل واجب ہوگا، اور اسی میں احتیاط ہے، اور اگر اس عمل سے  نہ انزال ہوا اور نہ شہوت آئی  تو پھر بالاتفاق  غسل واجب نہیں ہوگا۔

فتاوی ہندبہ میں ہے:

"(السبب الثاني الإيلاج) الإيلاج في أحد السبيلين إذا توارت الحشفة يوجب الغسل على الفاعل والمفعول به أنزل أو لم ينزل وهذا هو المذهب لعلمائنا".

(الفتاوى الهندية: كتاب الطهارة، الباب الثاني في الغسل، الفصل الثالث في المعاني الموجبة للغسل 1/ 15 ط : رشيديه)

الدر المختار مع رد المحتار میں ہے:

"(و) لا عند (إدخال إصبع ونحوه) كذكر غير آدمي وذكر خنثى وميت وصبي لا يشتهي وما يصنع من نحو خشب (في الدبر أو القبل) على المختار".

(قوله: على المختار) قال في التجنيس: رجل أدخل إصبعه في دبره و هو صائم اختلف في وجوب الغسل والقضاء. والمختار: أنه لا يجب الغسل ولا القضاء؛ لأن الإصبع ليس آلة للجماع، فصار بمنزلة الخشبة ذكره في الصوم. وقيد بالدبر؛ لأن المختار وجوب الغسل في القبل إذا قصدت الاستمتاع؛ لأن الشهوة فيهن غالبة فيقام السبب مقام المسبب دون الدبر لعدمها نوح أفندي. أقول: آخر عبارة التجنيس عند قوله بمنزلة الخشبة، وقد راجعتها منه فرأيتها كذلك، فقوله وقيد إلخ من كلام نوح أفندي، وقوله لأن المختار وجوب الغسل إلخ بحث منه سبقه إليه شارح المنية، حيث قال والأولى أن يجب في القبل إلخ، وقد نبه في الإمداد أيضا على أنه بحث من شارح المنية فافهم.                                           

(الدر المختار مع رد المحتار: كتاب الطهارة  1/ 166 ط : سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144309100503

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں