بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 رجب 1444ھ 28 جنوری 2023 ء

دارالافتاء

 

مسواک کا مسنون طریقہ


سوال

1: مسواک کے بعد دانتوں کا انگلیوں سے خلال کرنا ضروری ہے یا نہیں ؟ اور مسواک کرنے کا مسنون طریقہ کیا ہے؟

2: گیارہ دفعہ سورۂ اخلاص پڑھ کر تمام امتِ مسلمہ کو ہدیہ کرنا چاہتاہوں ،تو اس میں جو نیک جنات ہیں کو یہ ثوا ب ہدیہ کرنے کے لیے ان کا نام لینا پڑے گا یا نہیں ؟

جواب

1: صورتِ مسئولہ میں مسواک کرنے کے بعد دانتوں کا انگلیوں سے خلال کرنا شرعاً ضروری نہیں اور اگر کرنا چاہے تو کرسکتا ہے۔

مسواک کرنے کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ مسواک دائیں ہا تھ میں اس طر ح پکڑیں کہ ایک سرے  پر چھوٹی انگلی مسواک کے نیچے کی طرف ہو اور دوسرے سرے پر انگوٹھا  ہواور باقی  تین انگلیاں مسواک کے اوپر کی جانب ہوں ،اس کے بعد  پہلے دائیں طرف کے اوپر کے دانتوں پر چوڑائی میں تین بار  مسواک کریں اور پھر نیچے کے دانتوں پر اور اس کے بعد بائیں طرف اسی طرح مسواک کریں ۔

2:مسلمان جنات بھی  امتِ مسلمہ میں داخل ہیں لہذا ان  کے لیے ثواب ہدیہ کرتے وقت ان کا   نام لینا ضروری نہیں ،اگر لے لیا تو کوئی مضائقہ نہیں ۔

البحر الرائق میں ہے:

"ويستاك عرضا لا طولا؛ لأنه يخرج لحم الأسنان وقال الغزنوي يستاك طولا وعرضا والأكثر على الأول ويستحب إمساكه باليد اليمنى والسنة في كيفية أخذه أن تجعل الخنصر من يمينك أسفل السواك تحته والبنصر والوسطى والسبابة فوقه واجعل الإبهام أسفل رأسه تحته كما رواه ابن مسعود ولا يقبض القبضة على السواك، فإن ذلك يورث الباسور ويبدأ بالأسنان العليا من الجانب الأيمن ثم الأيسر ثم السفلى كذلك كذا في شرح منية المصلي وتقوم الأصبع أو الخرقة الخشنة مقامه عند فقده أو عدم أسنانه في تحصيل الثواب لا عند وجوده."

(كتاب الطهارة، سنن الوضوء، 21/1 ، ط: سعيد)

فتاوی شامی میں ہے:

"لاصفرار سن وتغير رائحة وقراءة قرآن؛ وأقله ثلاث في الأعالي وثلاث في الأسافل (بمياه) ثلاثة.(و) ندب إمساكه (بيمناه)ويستاك عرضا لا طولا.

وفي البحر والنهر والسنة في كيفية أخذه أن يجعل الخنصر أسفله والإبهام أسفل رأسه وباقي الأصابع فوقه كما رواه ابن مسعود."

(كتاب الطهارة، سنن الوضوء، 114/1 ، ط: سعيد)

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

"وَأَنَّا مِنَّا الْمُسْلِمُونَ وَمِنَّا الْقَاسِطُونَ ۖ فَمَنْ أَسْلَمَ فَأُولَٰئِكَ تَحَرَّوْا رَشَدًا (الجن:14)"

"ترجمہ:اور ہم میں بعضے تو مسلمان ہیں اور بعضے ہم میں بے راہ ہیں ،سو جو شخص مسلمان ہوگیا انہوں نے تو بھلائی کا راستہ ڈھونڈلیا۔(بیان القران)"

فقط واللہ أعلم


فتوی نمبر : 144308102172

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں