بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ربیع الاول 1442ھ- 21 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

مرحوم کی طرف سے کی گئی قربانی کے گوشت کا حکم


سوال

 اگر کوئی فوت شدہ انسان کی طرف سے قربانی کرنا چاہتا ہو تو اس میت کا حصہ قربانی کرنے والا اور اس کے گھر والے کھا سکتے ہیں یا سارا گوشت صدقہ کرے گا؟ یا تین حصوں میں تقسیم کرے گا؟

جواب

صورت مسئولہ میں اگر میت کے ورثاء اس کی وصیت کی وجہ سے قربانی کر رہے ہوں تو اس صورت میں اس کے حصہ کا سارا گوشت صدقہ کرنا واجب ہوگا، بصورت دیگر اگر  محض ثواب کی نیت سے مرحوم کی طرف سے قربانی کی جائے تو اس کا سارا گوشت صدقہ کرنا واجب نہیں،  بلکہ مرحوم کی طرف سے  قربانی کرنے والے کو اختیار  ہوگا، چاہے تو سب صدقہ کردے، چاہے تو سب اپنے لئے رکھ لے، اور چاہے تو تین حصہ کرکے ایک حصہ غریبوں میں تقسیم کردے، ایک حصہ خاندان والوں میں اور ایک حصہ اپنے لئے رکھ لے۔

رد المحتار میں ہے:

مَنْ ضَحَّى عَنْ الْمَيِّتِ يَصْنَعُ كَمَا يَصْنَعُ فِي أُضْحِيَّةِ نَفْسِهِ مِنْ التَّصَدُّقِ وَالْأَكْلِ وَالْأَجْرُ لِلْمَيِّتِ وَالْمِلْكُ لِلذَّابِحِ. قَالَ الصَّدْرُ: وَالْمُخْتَارُ أَنَّهُ إنْ بِأَمْرِ الْمَيِّتِ لَا يَأْكُلْ مِنْهَا وَإِلَّا يَأْكُلُ بَزَّازِيَّةٌ، وَسَيَذْكُرُهُ فِي النَّظْمِ ( كتاب الاضحية، ۶ / ۳۲۶، ط: دار الفكر)

فتاوی شامی میں ہے:

(قَوْلُهُ وَعَنْ مَيِّتٍ) أَيْ لَوْ ضَحَّى عَنْ مَيِّتٍ وَارِثُهُ بِأَمْرِهِ أَلْزَمَهُ بِالتَّصَدُّقِ بِهَا وَعَدَمِ الْأَكْلِ مِنْهَا، وَإِنْ تَبَرَّعَ بِهَا عَنْهُ لَهُ الْأَكْلُ لِأَنَّهُ يَقَعُ عَلَى مِلْكِ الذَّابِحِ وَالثَّوَابُ لِلْمَيِّتِ، وَلِهَذَا لَوْ كَانَ عَلَى الذَّابِحِ وَاحِدَةٌ سَقَطَتْ عَنْهُ أُضْحِيَّتُهُ كَمَا فِي الْأَجْنَاسِ. قَالَ الشُّرُنْبُلَالِيُّ: لَكِنْ فِي سُقُوطِ الْأُضْحِيَّةَ عَنْهُ تَأَمُّلٌ اهـ. أَقُولُ: صَرَّحَ فِي فَتْحِ الْقَدِيرِ فِي الْحَجِّ عَنْ الْغَيْرِ بِلَا أَمْرٍ أَنَّهُ يَقَعُ عَنْ الْفَاعِلِ فَيَسْقُطُ بِهِ الْفَرْضُ عَنْهُ وَلِلْآخَرِ الثَّوَابُ فَرَاجِعْهُ ( كتاب الأضحية، ۶ / ۳۳۵، ط: دار الفكر) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144112200100

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں