بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 شوال 1443ھ 25 مئی 2022 ء

دارالافتاء

 

میراث کی تقسیم


سوال

میرے دادا کا ایک مکان  تھا،اب ان کا انتقال ہوچکا ہے اور وہ مکان بھی  فروخت کردیا گیا  ہے اور اس کی  رقم  بھی تقسیم ہو چکی ہے  اور ہمیں اپنا حصہ بھی  مل چکا ہے  ،اب میرے چچا کہہ رہے ہیں  کہ آپ کے والد صاحب نے دادا کی زندگی میں  یہ کہا تھا کہ "اس  گھر سے اپناحصہ چھوڑتا ہوں  "لہذا مکان کی رقم پر  آپ لوگوں کا حق نہیں  ہے ،یہ رقم آپ ہمیں واپس کردیں ،والد صاحب سے پوچھا  تو انہوں نے  جواب   دیا  کہ مجھے کچھ یاد نہیں کہ  میں نے کہا تھا یا نہیں (کیونکہ  عمر بھی زیادہ ہو گئی ) البتہ والد صاحب  کی ایک دستاویز  میں یہ بات ملی  کہ اگر چہ  میں نے بہت پہلے  بات کہیں تھی  ،اس کے علاوہ  اور بھی میں نے  بہت کچھ کہا تھا  جو آپ لوگوں نے نہیں مانا، براہ کرم  شریعت کی رو سے  راہنمائی فرمائیں کہ اگر والدصاحب  نے کہا تھا  تو کیا حکم ہے ؟اور نہیں کہا تو کیا حکم ہے ؟دونوں باتوں کے متعلق  شریعت کیا کہتی ہے ؟

جواب

واضح رہے  کہ میراث اور ترکہ میں جائیداد کی تقسیم سے پہلے کسی وارث کا اپنے شرعی حصہ سے  محض زبانی طور پر بلا عوض دست بردار ہوجانا شرعاً معتبر نہیں ہے، البتہ ترکہ تقسیم ہوجائےتو پھر ہر ایک وارث اپنے حصے پر قبضہ کرنے  کے بعد اپنا حصہ کسی  کو دینا چاہے  یا کسی کے حق میں دست بردار ہوجائے تو یہ شرعاً جائز اور  معتبر ہے۔ اسی طرح کوئی وارث ترکہ میں سے کوئی چیز لے کر (خواہ وہ معمولی ہی کیوں نہ ہو)  صلح کرلے اور ترکہ میں سے اپنے باقی حصہ سے دست بردار ہوجائے تو یہ بھی درست ہے، اسے اصطلاح میں " تخارج" کہتے ہیں۔

مذکورہ تفصیل کی رو سے  صورت مسئولہ میں  سائل کے والد  کااپنے  والد کی زندگی میں یہ کہناکہ "میں اس گھر سے اپنا حصہ چھوڑتا ہو ں " شریعت میں اس کا کوئی اعتبار نہیں ،لہذا سائل کے چچا کا  اپنے بھائی سے میراث کی رقم  کا مطالبہ کرناجائز نہیں ۔

 " تکملۃ رد المحتار علی الدر المختار" میں ہے:

" الإرث جبري لَا يسْقط بالإسقاط".

(ج: 7/ص:505 / کتاب الدعوی، ط :سعید)

"الأشباہ والنظائر" لابن نجیم  میں ہے:           

"لَوْ قَالَ الْوَارِثُ: تَرَكْتُ حَقِّي لَمْ يَبْطُلْ حَقُّهُ؛ إذْ الْمِلْكُ لَا يَبْطُلُ بِالتَّرْك"

 (ص؛309/ما یقبل الاسقاط من الحقوق وما لا یقبلہ/ط:قدیمی)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144305100439

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں