بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 ذو الحجة 1443ھ 07 جولائی 2022 ء

دارالافتاء

 

میں نے تمہیں چھوڑدیاہے کا حکم


سوال

میرےوالد کا 7 سال پہلے انتقال ہوگیاہے، والدکے انتقال کے بعد والدہ کا  انتقال ہوا، والد نے اپنی زندگی میں ہم سب کو حصہ دے دیا تھا، میرے حصے میں ایک پلاٹ آیا تھا، جس کو بیچ کر سرجانی ٹاؤن میں گھر لیا تھا، جس کا مکمل قبضہ اور کاغذات میرے پاس ہی ہیں،والدہ کی زندگی میں بھی میں اسی گھر میں رہتی رہی اور انتقال کے بعد بھی اپنے بچوں کے ساتھ اسی گھر میں رہتی ہوں، لیکن میرے شوہر نے مجھے فون پر ایک دن کہا کہ  "میں نے تمہیں چھوڑ دیا ہے، اب ساتھ نہیں رہوں گا"، اس بات کے بعد  میرے بھائی نے میرے شوہر کو دھمکی دی، اور گھر سے نکال دیا، اب میرا بھائی اس گھر پر قبضہ کر کے بیٹھا ہے، سوال یہ ہےکہ جو گھر میرا حصہ ہے وہ کس کی  ملکیت ہوگا؟

2۔میرے شوہر کے الفاظ " میں نے تمہیں چھوڑدیا ہے ، اب تمہارے ساتھ نہیں رہوں گا" پھر رجوع نہیں کیا،اس بات کو چار سال ہوگئے ، ہم چار سال سے علیحدہ رہتے ہیں، تو کیا اس جملہ سے طلاق ہوگئی؟

3۔والد کی پینشن پہلے والدہ کے نام آتی تھی، لیکن والدہ کے انتقال کے بعد میرے نام آرہی ہے، لیکن بھائی کا مطالبہ ہےکہ اس پینشن میں آدھی رقم ایک دوسری بہن کو بھی دیں، ورنہ  میرے گھر کا کرایہ بھائی لے گا، تو کیا بھائی کا یہ مطالبہ درست ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں سائلہ  کے والد مرحوم  نے اپنی زندگی میں تمام ورثاء میں   اپنی جائیداد    تقسیم کردی تھی ، جس کے بعدسائلہ نے اپنے حصے کے پیسوں  سے سرجانی ٹاؤن میں گھر خریدا ، تو  یہ گھر سائلہ کی ملکیت ہے، سائلہ کے بھائی کو حق نہیں کہ اس گھر پر ناحق قبضہ کرے، لہذا سائلہ کے بھائی پر لازم ہےکہ یہ گھر سائلہ کے حوالے کرے۔

2۔سائلہ کےشوہر کا یہ کہناکہ " میں نے تمہیں چھوڑدیا ہے ، اب تمہارے ساتھ نہیں رہوں گا" ، اس جملہ سے ایک طلاق رجعی واقع ہوگئی تھی، اور  پھر  رجوع نہیں ہوا ، اورچار سال تک  دونوں علیحدہ رہے  تو اس  سے سائلہ کا نکاح ختم ہوگیا ہے، اگر دونوں دوبارہ ساتھ رہنا چاہتےہیں ، تو دو شرعی گواہوں کی  موجودگی  میں نئے مہر کے ساتھ نکاح کرنا  لازمی ہے۔

3۔ملازمین یا ان کے بعد ان کے لواحقین کو ملنے  والی پینشن کی رقم  متعلقہ ادارہ کی طرف سے عطیہ اور تبرع ہوتی ہے، ادارہ  جس کے نام پر جاری کرے وہی اس کا مالک ہوتا ہے، لہذا صورت مسئولہ میں سائلہ کی والدہ کے انتقال کے بعد یہ پینشن سائلہ کے نام پر جاری ہونے کی بناء پر   اب سائلہ اس پینشن کی مالک ہے، بھائی کو حق نہیں کہ سائلہ سے زبردستی اپنی بہن کو آدھی رقم دے۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک  ہے:

"من أخذ شبرا من الأرض ظلما فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين"۔اخرجه البخاري

(باب ما جاء في سبع أرضين،ج:3،ص:1168 ،برقم (3026)،ط. دارابن كثير)

ترجمہ:جس شخص نے  ظالمانہ طریقے سے  بالشت بھر زمین  قبضہ کی تو قیامت میں  ساتوں زمینوں  میں سے وہ (ناجائز قبضہ کردہ زمین) اس کےگلے میں طوق بناکر ڈال دیا جائے گا۔

ردالمحتا رمیں ہے:

''(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل.''

(ردالمحتار ، ج:5،ص:690،ط:سعید)

ردالمحتار میں ہے:

"فإن سرحتك كناية، لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح، فإذا قال: "رهاكردم" أي سرحتك، يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضاً، و ما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق، و قد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت."

(باب الکنایات، ج:3، ص:299، ط:سعید)

امداد الفتاوی میں ہے:

"چوں کہ میراث مملوکہ اموال میں جاری ہوتی ہے اور یہ وظیفہ محض تبرع واحسانِ سرکار ہے، بدون قبضہ کے مملوک نہیں ہوتا، لہذا آئندہ جو وظیفہ ملے گا اس میں میراث جاری نہیں ہوگی، سرکار کو اختیار ہے جس طرح چاہیں تقسیم کردے"۔

( کتاب الفرائض،ج:4،ص:343،ط: دارالعلوم)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144307101428

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں