بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مینڈک کھانا حلال ہے یا حرام؟


سوال

 میں سنگاپور میں رہتا ہوں اور یہاں لوگوں کی مختلف عادتیں ہیںِ ، بشمول مسلمانوں کے کہ یہ لوگ سانپ، کیکڑا، مختلف مچھلیاں اور مینڈک وغیرہ کھاتے ہیں، میں بالخصوص مینڈک کے بارے میں جاننا چاہتا ہوں کہ اُس کا کھانا حلال ہے یا نہیں؟ میں نے پڑھا ہے  کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی حدیث میں مینڈک کو مارنے سے منع فرمایا ہے، لیکن مجھے اُس کی صحت کا پتہ نہیں ہے، میری رہنمائی فرمائیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل نے مینڈک کو مارنے سے ممانعت کے بارے میں جس حدیث  کا ذکر کیا ہے وہ حدیث "سنن أبي داود"، "سنن الترمذي"، "مسند أحمد"ودیگر کتبِ حدیث میں الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ مذکور ہے۔"سنن أبي داود"کی روایت کے الفاظ درج ذیل ہیں:

"حدّثنا محمّد بن كثير، أخبرنا سفيان عن ابن أبي ذئب عن سعيد بن خالد عن سعيد بن المسيَّب عن عبد الرحمن بن عثمان -رضي الله عنه -: أنّ طبيباً سأل النّبيّ -صلّى الله عليه وسلّم- عن ضفدع يجعلها في دواء، فنهاه النّبيّ -صلّى الله عليه وسلّم- عن قتلها".

(سنن أبي داود، أول كتاب الأدب، باب في قتل الضفدع، 4/368، رقم: 5269، ط: المكتبة العصرية، صيدا - بيروت)

ترجمہ: 

’’(حضرت)عبد الرحمن بن عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک طبیب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سےدواء میں مینڈک کو  استعمال کرنے سے متعلق دریافت کیاتو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےمینڈ ک کو قتل کرنے سے منع فرمایا‘‘۔

امام بیہقی رحمہ اللہ  کی تصریح کے مطابق مذکورہ روایت مینڈک کو قتل کرنے سے ممانعت سے متعلق روایات میں سے اقوی ترین روایت ہے، لہذا مذکورہ  روایت کو بیان کیا جاسکتا ہے ۔

تاہم یہ واضح رہے کہ  مذکورہ روایت  میں  مینڈک کے حلال یا حرام ہونے کا سوال نہیں کیا گیا،  بلکہ  مینڈک کو قتل کرکے دوا میں ڈالنا جائز ہے یا نہیں ؟ اس کے بارے میں سوال کیا گیاہے،اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قتل کركے دوا ميں استعمال كرنے سے منع فرمایا ہے۔ غرض یہ کہ  مینڈک حلال ہے یا حرام  ؟ مذکورہ روایت  میں اس کو صراحت کے ساتھ بیان نہیں کیا گیا، اگر چہ اس مسئلہ کو    مذکورہ روایت سےمستنبط کیا جا سکتا ہےاور  بعض فقہائےکرام  رحمہم اللہ نے  مستنبط کیا بھی ہے۔

باقی مینڈک کے بارے میں  حکم  یہ ہےکہ حنفیہ کے ہاں سمندری مخلوقات میں سے صرف مچھلی کھانے کی اجازت ہے،مینڈک چوں کہ مچھلی کی قسم نہیں ہے، بلکہ  خبائث میں سے ہے اور اللہ تعالی نے خبائث کو حرام کردیاہے، اس لیے مینڈک کا کھانا حلال  نہیں ہے۔

"السنن الكبرى للبيهقي"میں ہے:

"وأقوى ما ورد في الضِّفدع ما أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطّان ببغداد، أنبأ عبد الله بن جعفر بن  دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يعقوب بن سفيان، ثنا أبو عاصم الضحّاك بن مخلد عن ابن أبي ذئب عن سعيد بن خالد عن سعيد بن المسيَّب عن عبد الرحمن بن عثمان رجل من بني تيم -رضي الله عنه- قال: ذكروا الضِّفدع عند رسول الله -صلّى الله عليه وسلّم- لدواء، فنهى عن قتلها".

(السنن الكبرى، جماع أبواب ما يحل ويحرم من الحيوانات، باب ما يحرم من جهة ما لا تأكل العرب، 9/533، رقم: 19379، ط: دار الكتب العلمية)

"بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع"میں ہے:

"وقوله عزّ شأنُه: {ويُحرِّم عليهم الخبائث} [الأعراف: 157]، والضِّفدعُ والسّرطانُ والحيّةُ ونحوُها مِن الخبائث، ورُوي عَن رسول الله - صلّى الله عليه وسلّم - سُئل عَن ضُفدعٍ يُجعل شحمُه في الدّواء، فنهَى - عليه الصّلاة والسّلام - عَن قتل الضَّفادع، وذلك نهيٌ عَن أكلِه".

(بدائع الصنائع، كتاب الذبائح والصيود، 5/35، ط:سعيد)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 143101200001

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں