بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 ذو الحجة 1445ھ 12 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

محض جماع سے غسل فرض ہونے کا حکم


سوال

اپنی بیوی سے ہمبستری کرنے کے بعد اگر مرد عورت کی شرم گاہ کے اوپر ڈ س چار ج ہو، تو کیا باہر ڈسچارج ہونے پر عورت پر بھی غسل فرض ہوگا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں میاں کے جماع کرنے سے (یعنی مرد کی شرم گاہ عورت کی شرم گاہ میں داخل ہوتے ہی) میاں بیوی پر غسل فرض ہوجاتا ہے،اس کے  بعد ڈسچارج اندر ہو یا باہر اس سے کوئی فرق نہیں آتا،دخول ہوتے ہی غسل فرض ہو گیا ہے۔

فتاویٰ شامی (الدر المختار ورد المحتار) میں ہے:

"(و) عند (إيلاج حشفة) هي ما فوق الختان (آدمي) احتراز عن الجني يعني إذا لم تنزل وإذا لم يظهر لها في صورة الآدمي كما في البحر

(قوله: وعند إيلاج) أي إدخال، وهذا أعلم من التعبير بالتقاء الختانين لشموله الدبر أيضا".

(کتاب الطہارۃ، فرض الغسل، ج:1، ص:161، ط:ایچ ایم سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144404101166

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں