بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 16 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

مہر معجل وموٗجل اور اسکی تعیین سے متعلق حکم


سوال

نکاح کے مہر کے سلسلے میں لڑکے اورلڑکی کے ولی کے درمیان یہ طےپاتاہےکہ مہرکی رقم ,00050 ہےاور لڑکے کی مرضی کہ اتنی رقم نقد دے یا اس قیمت کا کوئی تحفہ یعنی زیور وغیرہ۔مزید یہ کہ نکاح اورلڑکی کی رخصتی میں ۳، ۴ ماہ کا وقفہ ہے رہنمائی فرمائیے کہ۱۔ مہر اگر رخصتی کےفورا بعد ادا کیا جائے تو یہ معجل کہلائے گا یا مؤجل؟۲۔ نکاح کے موقع پر ایجاب کےالفاظ میں مہر کی رقم بولنا کافی ہوگا یا اس شے کا نام لینا ضروری ہوگا جو مہر کےطور پر دی جارہی ہے؟

جواب

۔صورت مسئولہ میں رخصتی کے فوراً بعد مہرادا کیا جائے تو یہ معجل (نقد)مہر کہلائے گا۔ 2۔ بوقتِ نکاح مہر کے تعیین کی جائے اگر مہربصورت رقم دی جارہی ہے تو رقم کی مقدار اور نوعیت مثلاً دس ہزار پاکستانی روپے ،واضح کیاجائے اور اشیاء کی صورت میں چیز کو واضح کیا جائے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143101200468

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے