بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 رجب 1444ھ 31 جنوری 2023 ء

دارالافتاء

 

محنت کرنے والے شریک کے لیے زیادہ تناسب سے نفع طے کرنا جائز ہے


سوال

 علی پراپرٹی کا ماہر  ہے ،اور عرصہ سے کام کررہا ہے،  علی نے زید سے کہا کہ میرے پاس ایک زمین آئی   ہے،  اگر تم چاہو تو اس زمین میں انویسٹ کردو اور یہ طے ہوا کہ  علی اپنا پرافٹ تو اپنی انوسٹمنٹ کے حساب سے پورا لے  گا اور کیوں کہ سب ذمہ داری اور بھاگ دوڑ علی کررہا ہے، زید کے صرف پیسے لگے ہیں اس وجہ سےزید کے پرافٹ میں سے بھی20 %علی الگ لے گا اور دونوں اس پر راضی ہیں۔اب سوال یہ کے آیا یہ طریقہ صحیح ہے اور اگر نہیں تو صحیح طریقہ تحریر فرمائیں ؟

جواب

صورتِ  مسئولہ  میں فریقین (علی اور زید) کی باہمی رضامندی سے   کام کرنے والے شریک  یعنی علی کا اس کے سرمایہ  کے تناسب  سے  زیادہ  نفع طے کرنا  جائز ہے، البتہ نفع کا تناسب  فیصد کے اعتبار سے ابتدا  میں   طے کر لیا جائے  کہ مثلًا  اس کام سے حاصل ہونے والے نفع میں سے ٪70 فیصد علی کا ہوگا اور ٪ 30 فیصد زید کا ہوگا۔ تاہم  نقصان کی صورت میں  انویسٹمنٹ کے تناسب سے دونوں نقصان میں شریک ہوں گے۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6 / 62):

"(وأما) عندنا فالربح تارة يستحق بالمال و تارةً بالعمل و تارةً بالضمان على ما بينا، و سواء عملًا جميعًا أو عمل أحدهما دون الآخر، فالربح بينهما يكون على الشرط."

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144212202011

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں