بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ربیع الثانی 1442ھ- 01 دسمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

محض بیوی کے طلاق کے مطالبہ کرنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی


سوال

اگر بیوی تین سے چار ایک سال یا دو سال کے وقفہ سے طلاق کا مطالبہ کرے،تو نکاح قائم رہتاہے؟

جواب

واضح رہے کہ ’’طلاق ‘‘ کے واقع ہونے کے لیے ضروری ہے کہ  شوہر  زبان سے  یا تحریر سے طلاق کے صریح یا کنائی الفاظ ادا کرے، اگر بیوی طلاق کا مطالبہ کرے اور شوہر اس کے جواب میں کچھ نہ کہے تو محض بیوی کے طلاق کا مطالبہ کرنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی، نکاح برقرار ہے۔

وفی الدر المختار وحاشية ابن عابدين :

"قال في الفتح: ومنها أي من محاسنه جعله بيد الرجال دون النساء لاختصاصهن بنقصان العقل وغلبة الهوى ونقصان الدين."

(3/ 229 ط:سعید)

وفي حاشية ابن عابدين :

"(قوله: و ركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية فخرج الفسوخ على ما مر، وأراد اللفظ ولو حكما ليدخل الكتابة المستبينة وإشارة الأخرس والإشارة إلى العدد بالأصابع في قوله: أنت طالق هكذا، كما سيأتي."

(رد المحتار3/ 230ط:سعيد)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144203201580

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں