بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1444ھ 03 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

میزان بینک میں انویسمنٹ اور پراویڈنٹ فنڈ کا حکم


سوال

میزان بینک میں صکوک سیونگ سرٹیفیکیٹ (Sukook Saving Certificates) میں پیسے انویسٹ کرنا کیسا ہے؟

2۔ اسی طرح المیزان روزانہ آمدنی فنڈ میں انویسٹ کرنے کے بارے میں بھی رہنمائی فرمائیں؟

3۔ میں ایک کمپنی کے فائنینس ڈپارٹمنٹ میں کام کرتا ہوں، ہماری کمپنی نے مندرجہ بالا انویسٹمنٹس اور میزان اجارہ فائنانسنگ سے لیپ ٹاپ کمپیوٹر لیے ہوے ہیں۔ براہ راست ان معاملات میں میں دخل انداز نہیں ہوتا سوائے حساب کتاب اور اکاؤنٹنگ کی غرض سے، مگر CFO کی غیر حاضری اور COO/CEO کے اسرار پر مجھے بینک سے معاونت اور پرافٹ کی شرح طے کرنی پڑ جاتی ہے۔

4۔ میری کمپنی ملازمین کی تنخواہ سے پراویڈنٹ فنڈ (provident fund) کی مد میں کچھ رقم کاٹ کر اس میں اپنی طرف سے بھی اتنی ہی رقم ملا کر المیزان روزانہ آمدنی فنڈ میں انویسٹ کرنے جا رہی ہے، اس سلسلے میں میرا کیا عمل ہونا چاہیے(اگر میرے پاس رقم نکلوانے کا آپشن نہ ہو تو بھی اور اگر ہو تو بھی)، المیزان روزانہ آمدنی فنڈ ایک منی مارکٹ فنڈ ہے جو سکوک سیونگ سرٹیفیکیٹ وغیرہ میں انویسٹ کرتا ہے،  رہنمائی کے  بعد  کچھ نصیحت و مشورہ فرما دیں۔

جواب

1-واضح رہے کہ سیونگ سرٹیفیکیٹ  اسکیم سود ی اسکیم ہے،اس سے حاصل ہونے والا نفع سود ہے؛  اس لیے اس کا استعمال جائز نہیں،لہٰذا صورت مسئولہ میں صکوک سیونگ سرٹیفیکیٹ میں پیسے انویسٹ کرنا جائز نہیں ہے۔

2-المیزان کمپنی  کے اکثر معاملات  شرعی اصولوں کے خلاف ہیں ، اس لیے المیزان کمپنی روزانہ  آمدنی فنڈ میں انویسٹ کرنا اور اس   کے ذریعہ منافع حاصل کرنا جائز نہیں ہے۔

3-باقی جہاں تک مذکورہ معاملات کرنے والے شخص کے پاس  آپ کی ملازمت کا تعلق ہے تو اگر اس آفس میں کام جائز ہوتا ہو اور  آپ کا  کام  بھی جائز ہو تو   آپ کے لیے یہاں کام کرنا جائز ہوگا  اور آمدنی بھی حرام نہیں ہوگی۔

4-پراویڈنٹ فنڈ کی رائج صورتیں:

الف۔ بعض کمپنیز اپنے ہر ملازم کو جبراً اس فنڈ کا حصہ بناتی ہیں اور ملازم کو عدمِ شمولیت کا اختیار نہیں دیتیں، جس کی وجہ سے ہر ماہ تنخواہ دینے سے پہلے ہی طے شدہ شرح کے مطابق جبری کٹوتی کرلی جاتی ہے اور بقیہ تنخواہ ملازم کو دے دی جاتی ہے۔

ب۔ بعض کمپنیز کی طرف سے ہر ملازم کے لیے اس فنڈ کا حصہ بننا لازمی نہیں ہوتا ، بلکہ کمپنی اپنے ملازمین کو اختیار دیتی ہے کہ اپنی مرضی سے جو ملازم اس فنڈ سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے وہ اس فنڈ کا حصہ بن سکتا ہے اور کمپنی ملازمین کی اجازت سے ہر ماہ طے شدہ شرح کے مطابق ان کی تنخواہوں سے کٹوتی کرکے مذکورہ فنڈ میں جمع کرتی رہتی ہے۔

ج۔ بعض کمپنیز ہر ملازم کو جبراً اس فنڈ کا حصہ بنانے کے ساتھ ساتھ ملازمین کو یہ اختیار بھی دیتی ہے کہ اگر کوئی ملازم اس فنڈ میں مقررہ شرح سے زیادہ رقم جمع کرانا چاہے تو کرا سکتا ہے؛ اس قسم کی کٹوتی کو جبری و اختیاری کٹوتی کہا جاتا ہے ۔

مذکورہ صورتوں میں ملنے والے اضافے کا حکم:

الف۔ پہلی صورت( جبری کٹوتی) کا حکم یہ ہے کہ یہ فنڈ کمپنی کی طرف سے ملازمین کے لیے تبرع و انعام ہوتا ہے اور ملازمین کے لیے یہ لینا شرعاً جائز ہوتا ہے ۔ احتیاطاً یہ اضافہ نہ لیا جائے تو بہترہے۔

ب۔ دوسری  قسم (اختیاری کٹوتی)  کا حکم یہ ہے کہ ملازمین نے اپنی تنخواہوں سے جتنی کٹوتی کرائی ہے اتنی ہی جمع شدہ رقم وہ لے سکتے ہیں، زائد رقم لینا شرعاً سود ہونے کی وجہ سے لینا جائز نہیں ہوتا ۔

ج۔ تیسری صورت( جبری واختیاری کٹوتی) کا حکم یہ ہے کہ جتنی کٹوتی جبراً ہوئی ہے اس پر ملنے والی زائد رقم ملازم کے لیے لینا شرعاً جائز ہوتا ہے اور جتنی رقم ملازم نے اپنے اختیار سے کٹوائی ہے اس پر ملنے والی زائد رقم لینا جائز نہیں ہوتا ۔

حدیث شریف میں ہے:

"عن جابر قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا، ومؤكله، وكاتبه، وشاهديه»، وقال: «هم سواء»."

(صحیح مسلم، باب لعن آکل الربوٰ و موکله : ج:3،ص:1219، ط : داراحیاءالتراث العربي)

السنن الكبري للبيہقی ميں ہے:

"عن فضالة بن عبيد صاحب النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: " كل قرض جر منفعة فهو وجه من وجوه الربا " موقوف."

(باب كل قرض جر منفعة فهو ربا:573/5،رقم:10933،ط:دارالکتب العلمیة)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"لأن القمار من القمر الذي يزداد تارةً وينقص أخرى، وسمي القمار قماراً ؛ لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص."

(کتاب الحظر و الإباحة ، فصل في البیع : ج:6 ،ص:403 ، ط : سعید)

البحر الرائق میں ہے:

"قوله:(بلبالتعجيلأو بشرطه أو بالاستيفاء أو بالتمكن) يعني لا يملك الأجرة إلا بواحد من هذه الأربعة والمراد أنه لا يستحقها المؤجر إلا بذلك كما أشار إليه القدوري في مختصره لأنها لو كانت دينا لا يقال أنه ملكه المؤجر قبل قبضه وإذا استحقها المؤجر قبل قبضها فله المطالبة بها وحبس المستأجر عليها وحبس العين عنه وله حق الفسخ إن لم يعجل له المستأجر كذا في المحيط لكن ليس له بيعها قبل قبضها."

(کتاب الاجارہ ،ج:7،ص:300،ط:دار الکتاب الاسلامی)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144401101899

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں