بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 شوال 1445ھ 23 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

علاتی بہنوں اور بھتیجوں میں میراث کی تقسیم


سوال

ایک عورت  کی وفات ہوئی ہے اور اس کی  3 علاتی بہنیں اور 2 حقیقی بھتیجے اور 3 حقیقی بھتیجیاں اور ایک علاتی بھانجا رہ گیا، اس کی  میراث کیسے تقسیم ہو گی؟

جواب

صورت ِ مسئولہ میں مرحومہ کے حقوق متقدمہ یعنی تجہیزو تکفین کے اخراجات نکالنے کے بعد ،اگر مرحومہ کے ذمہ کوئی قرض ہو تو اسے کل مال سے ادا کرنے کے بعد اور اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے بقیہ مال کے ایک تہائی سے نافذ  کرنے کے بعد کل ترکہ منقولہ وغیر منقولہ کو  18 حصوں میں تقسیم کرکے مرحومہ کی  ہر علاتی بہن کو 4 حصے  اور ہر ایک بھتیجے کو 3 حصے ملیں گے ،جب کہ بھتیجیوں اور علاتی بھانجے کو کچھ نہیں ملے گا ،تاہم اگر ورثاء ان کو اپنی طرف سے کچھ دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں ۔

صورت تقسیم یہ ہے :

میت۔۔۔18/3

علاتی بہنعلاتی بہنعلاتی بہنبھتیجابھتیجا
21
44433

فیصد کے اعتبار سے 22.22 فیصد ہر علاتی بہن کواور  16.66  فیصد ہر بھتیجے کو ملے گا ۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144507101712

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں