بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 شوال 1443ھ 25 مئی 2022 ء

دارالافتاء

 

میراث تقسیم کرنے کی ایک صورت


سوال

ہمارے والدین انتقال کرگئے ہیں ،پہلے والد کا پھر والدہ کا انتقال ہو گیا ہے،ورثاء میں سے تین بیٹے اور چار بیٹیاں تھیں ،ان میں سے بڑے بیٹے نے اپنی اور والدین ہی کی رضامندی  سے  ان کی زندگی میں اپنا(قانونی و شرعی ) حصہ لے کر بے  تعلق ہوگیا تھا، جس کاثبوت مع دستخط کے اسٹامپ پیپر پر گواہوں کے ساتھ موجود ہے۔

سب سے بڑی بیٹی کا انتقال2000ءمیں والدین کے زندگی میں ہوا ہے،دوسری بیٹی کاانتقال والدین کے بعد 2020 میں ہوا ہے ان  ورثا ء میں شوہر ،ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے

والد صاحب کا انتقال 2015اور والدہ کا2017میں ہوا ہے۔

دریافت یہ کرنا ہے کہ بڑے بیٹے والدین کی بقیہ  جائیداد میں حصہ ہوگاکہ نہیں؟

2۔بڑی بیٹی کی اولاد کا کتنا حصہ بنتا ہے؟ جس کا انتقال والدین کی زندگی میں ہوگیا تھا۔

جواب

جس بیٹے نے والدین کی زندگی میں والدین کی رضامندی سے اپنا شرعی حصہ وصول کیا ہے، تووالدین کے انتقال کے بعد اس کودوبارہ والدین کی جائیداد میں حصہ  نہیں ملے گا۔

صورتِ مسئولہ میں والدین کے ترکہ میں سے حقوقِ متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالنے کے بعد، اگر مرحومین پر کوئی قرض ہو تو اسے ادا کرنے کے بعد، اگر مرحومین نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو باقی ترکہ کےایک تہائی میں اسے نافذ کرنے کےبعد، باقی متروکہ جائیداد منقولہ وغیر منقولہ کو28حصے بنا کر دو بیٹوں میں سے ہر ایک بیٹے کو8حصے ،ہر ایک زندہ بیٹی کو4حصے، مرحومہ بیٹی کے شوہر کو1 حصہ ،بیٹے کو2حصے اور بیٹی کو 1 حصہ ملے گا۔

صورت تقسیم یہ ہے:

میت28/7/9

بیٹابیٹابیٹابیٹیبیٹیبیٹی
222111
تخارج88فوت44

میت4مرحومہ بیٹی _________ ما فی الید 1

شوہربیٹابیٹی
121

یعنی 100روپے میں سے دو بیٹوں میں سے ہر ایک بیٹے کو28.571روپے،ہر ایک زندہ  بیٹی کو14.285روپے،مرحومہ بیٹی  کے شوہر کو3.571روپے،بیٹے کو7.142روپےاور بیٹی کو3.571روپے ملیں گے۔

صورت مسئولہ میں جس بیٹی   کا انتقال والد کی زندگی میں  ہوا ہے اس کی اولاد کو والد کے ترکہ سے حصہ نہیں ملے گا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(أنه يحجب الأقرب ممن سواهم الأبعد) لما مر أنه يقدم الأقرب فالأقرب اتحدا في السبب أم لا (و) الثاني (أن من أدلى بشخص لا يرث معه) كابن الابن لا يرث مع الابن"

(کتاب الفرائض، ج:6،ص: 780،ط:دارالفکر)

وفیہ ایضا:

"قال القهستاني: واعلم أن الناطفي ذكر عن بعض أشياخه أن المريض إذا عين لواحد من الورثة شيئا كالدار على أن لا يكون له في سائر التركة حق، يجوز".

(کتاب الوصایا،ج:6،ص: 655دارالفکر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144304100606

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں