بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1444ھ 03 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

میراث کی تقسیم


سوال

غیر شادی شدہ بھائی کی وفات کی وراثت میں چھ بھائیوں اور ایک بہن میں پہلے سے فوت شدہ ایک بھائی اور ایک بہن اور بعد میں فوت شدہ ایک بھائی کا حصہ کیا ہوگا؟ پہلے سے فوت شدہ کا حصہ ہو گا یا نہیں ؟

جواب

صورت مسئولہ میں  جس بھائی اور بہن کا مرحوم کی زندگی میں انتقال ہوا ہے اس کا یا اس کی اولاد کا مرحوم کی جائیداد میں بطورِ وراثت حصہ نہیں، تاہم جس بھائی کا انتقال مرحوم کے انتقال کے بعد ہوا ہے اس کا حصہ اس کے ورثا میں تقسیم ہوگا۔

اگر مرحوم کے انتقال کے وقت صرف پانچ بھائی تھے تو مرحوم کے موجودہ ترکے میں سے سب سے پہلے تجہیز وتکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد، میت کے ذمے قرض ہوں تو ان کی ادائیگی کے بعد، مرحوم نے کوئی وصیت کی ہو تو کل مال کے تہائی حصہ میں سے وصیت کو نافذ کرنے کے بعد کل ترکہ میں سے 20 فیصد ہر ایک  بھائی کو ملے گا  اور جس بھائی کا بعد میں انتقال ہوا ہے اس کا حصہ اس کے ورثاء میں تقسیم ہوگا۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144210200646

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں