بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ذو الحجة 1441ھ- 10 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

میراث کی تقسیم


سوال

والد  وفات پائے ہیں, ان کے دوبیٹے حیات ہیں. بیوی پہلے ہی ان کی حیات میں وفات پاچکی ہیں. یعنی کوئی بیوہ نہیں ان کی ایک بیٹی.اور بیٹا حیات میں ہی وفات پاچکے ہیں.اب مرحوم کے پوتے 5 عدد ایک پوتی. نواسے چار عدد حیات ہیں.جائیداد میں پوتے پوتی ، نواسے ترکہ کے حق دار ہیں؟ کیوں کہ کہا جاتا ہے کہ اگر اولاد والد کی موجودگی میں وفات پا جائے تو وہ ترکہ میں حصہ دارنہیں ہوتے.راہ نمائی کے لیے فتوی جاری فرمائیں  فقہ حنفیہ کے مطابق۔

جواب

والد کی حیات (زندگی) میں جس بیٹے کا انتقال ہوجائے اس بیٹے کی اولاد کا اپنے دادا کی میراث میں شرعی حصہ نہیں ہوتا جب کہ دادا کی وفات کے وقت کوئی اور بیٹا زندہ ہو۔ البتہ آدمی کے لیے اپنے مال میں ایک تہائی ترکہ تک وصیت کی شرعاً اجازت ہوتی ہے، لہٰذا پوتوں کے ضرورت مند ہونے کی صورت میں دادا کو ایسے پوتوں اور پوتیوں کے حق میں ایک تہائی کے اندر اندر کچھ وصیت کر کے جانا چاہیے۔

بہرحال مذکورہ صورت میں میراث کی تقسیم یہ ہے کہ دونوں بیٹوں کو کل میراث کا آدھا آدھا حصہ  ملے گا۔ پوتوں، پوتی اور نواسوں کا شرعی حصہ نہیں ہوگا۔البتہ مرحوم کے بیٹے اگر اپنی خوش دلی سے کچھ دے دیں تو بہتر ہے۔  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144110200330

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں