بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ذو الحجة 1441ھ- 10 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

میراث کی جائیداد کا کرایہ


سوال

میرے والد والدہ کا انتقال ہوچکا ہے، والد وراثت میں ڈبل اسٹوری مکان اور دوکان چھوڑ گئے ہیں،  ہم دو بھائی اور دو بہنیں ہیں، والد کے انتقال کے بعد بڑی بہن بہنوئی نے مجھے بیوی بچوں کے ساتھ گھر سے بدخل کردیا اور ماں کی خدمت کا بول کر گراونڈ فلور پرگزشتہ چار سالوں سے قابض تھی، مگر رشتہ داروں کے اصرار پر مجھے فرسٹ فلور پر رہنے کی اجازت مل گئی اور آج تک جب کے والدہ کا بھی چھ ماہ پہلے انتقال ہو چکا ہے گراونڈ فلور پر قابض ہے، اور میرے علاوہ ایک ذہنی معذور بھائی جو کہ میری زیرسرپرستی میرے  ساتھ ہی رہتا ہے اور دوسری شادی شدہ  بہن اپنے شوہر کے ساتھ سسرال میں رہتی ہے، مکان کے سیکنڈ  فلور سے کرایہ ۹۵۰۰ اور دوکان کا کرایہ ۷۰۰۰ روپے آتا ہے معذور بھائی اور مکان کی تمام مینٹینس/اِخراجات میں اسی کرائے سے ادا کرتا ہوں۔

دونوں بہنیں مکان ودوکان کے کرائے میں حصہ مانگ رہی ہیں جب کہ ایک بہن تو پہلے ہی قابض ہے،  میرا سوال یہ ہے کے ہم دو بھائیوں اور دو بہنوں کا کرائے میں حصہ کس طرح ہوگا؟

جواب

اگر والدین  کے اپنے والدین زندہ نہ تھے، تو  میراث کی تقسیم یوں ہے کہ ہر بھائی کا حصہ 33 اعشاریہ 33 فیصد اور ہر بہن کا حصہ  16 اعشاریہ 7 فیصد۔ جو کرایہ اس مکان و دکان  میں سے آتا ہے، اس کی تقسیم بھی اسی حساب سے ہی ہوگی۔

البتہ  آپ بھی اس کرائے کے بدلے بہن سے جائیداد کی تقسیم کا مطالبہ کرسکتے ہیں، نیز وہ بہن جو دوسرے گھر میں رہتی ہے اس کواس کاحصہ دینا لازم ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144109202921

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں