بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 محرم 1446ھ 24 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

میں نہ لوں گا تجھے نکل جا کے الفاظ چار مرتبہ کہنے کا حکم


سوال

میاں بیوی کے جھگڑے کے وقت بیوی نے کہا "مجھے نہ لے" شوہر نے کہا "میں نہ لوں گا تجھے نکل جا" چار مرتبہ کہا تو اس میں طلاق ہوسکتاہے یا نہیں؟

جواب

صورت مسئولہ میں اگر شوہر نے غصہ کی حالت میں  طلاق کی نیت کے بغیر  یہ جملہ چار مرتبہ " میں نہ لوں گا  تجھے نکل جا" کہا  تو اس سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔اگر طلاق کی نیت سے  چار مرتبہ یہ جملہ کہا تو پہلی مرتبہ کہنے سے ایک طلاق بائن واقع ہوجائے گی اور اس کے بعد کے تین جملوں سے مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی کیونکہ طلاق بائن کو دوسری طلاق بائن لاحق نہیں ہوتی۔اور ایسی صورت میں نکاح ختم ہوجائے گا اور رجوع کرنا جائز نہیں ہوگا ۔ دوبارہ ساتھ رہنا ہو تو  دونوں کی رضامندی سے  نئے مہر اور شرعی گواہوں کی موجودگی میں نئے ایجاب قبول کے ساتھ تجدید نکاح کرنا ضروری ہوگا۔ تجدید نکاح کے بعد آئندہ کیلیے شوہر کو دو طلاقوں کا حق حاصل ہوگا۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ثم الكنايات ثلاثة أقسام (ما يصلح جوابا لا غير) أمرك بيدك، اختاري، اعتدي (وما يصلح جوابا وردا لا غير) اخرجي اذهبي اعزبي قومي تقنعي استتري تخمري (وما يصلح جوابا وشتما) خلية برية بتة بتلة بائن حرام....ففي حالة الرضا لا يقع الطلاق في الألفاظ كلها إلا بالنية والقول قول الزوج في ترك النية مع اليمين وفي حالة مذاكرة الطلاق يقع الطلاق في سائر الأقسام قضاء إلا فيما يصلح جوابا وردا فإنه لا يجعل طلاقا كذا في الكافي وفي حالة الغضب يصدق في جميع ذلك لاحتمال الرد والسب إلا فيما يصلح للطلاق ولا يصلح للرد والشتم كقوله اعتدي واختاري وأمرك بيدك فإنه لا يصدق فيها كذا في الهداية."

(کتاب الطلاق ، باب الثانی ، فصل خامس ج نمبر ۱ ص نمبر ۳۷۴، دارا لفکر)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها."

(کتاب الطلاق باب الرجعۃ ج نمبر ۱ ص نمبر ۴۷۲، دار الفکر)

فقط  واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144404101972

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں