بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ذو الحجة 1442ھ 04 اگست 2021 ء

دارالافتاء

 

ایم سی بی کے ساتھ لین دین


سوال

ایم سی بی (mcb) بینک کے ساتھ لین دین صحیح ہے یا نہیں؟

جواب

مروجہ بینکنگ نظام اسلامی اصولوں کے خلاف ہے، اور ان بینکوں میں سیونگ اکاؤنٹ میں رقم رکھوا کر اس پر نفع حاصل کرنا درست نہیں، نیز  ان  کے ساتھ کاروباری لین دین کی بھی شرعاً اجازت نہیں ہے۔ بینک میں ضرورتاً   صرف کرنٹ اکاؤنٹ کھولنے  کی اجازت ہے، اس لیے  کہ  کرنٹ اکاؤنٹ میں  کاؤنٹ ہولڈر کو یہ اختیار ہوتاہے کہ وہ جب چاہے اور جتنی چاہے اپنی رقم بینک سے نکلوالے گا، اور بینک اس کا پابند ہوتا ہے کہ اس کے مطالبہ پر رقم ادا کرے، اور اکاؤنٹ ہولڈر اس بات کا پابند نہیں ہوتا کہ وہ رقم نکلوانے سے پہلے بینک کو پیشگی اطلاع دے، اور اس اکاؤنٹ پر بینک کوئی نفع یا سود بھی نہیں دیتا، بلکہ اکاؤنٹ ہولڈر حفاظت وغیرہ کی غرض سے اس اکاؤنٹ میں رقم رکھواتے ہیں۔  نیز  بینک اس اکاؤنٹ میں  رکھی گئی رقم کا ایک حصہ اپنے پاس محفوظ بھی رکھتے ہیں؛ تاکہ اکاؤنٹ ہولڈر جب بھی رقم کی واپسی کا مطالبہ کرے  تو اس کی ادائیگی کی جاسکے، اس ساری صورتِ حال میں اکاؤنٹ ہولڈر کے لیے کرنٹ اکاؤنٹ میں رقم رکھوانے کی گنجائش ہے۔ نیز پیمنٹ وغیرہ کی ادائیگی کے لیے بھی فقط کرنٹ اکاؤنٹ ہی استعمال کیاجاسکتاہے، اوراس صورت میں  جو بینک اس سے سودی کام کرے گا اس کا گناہ متعلقہ ذمہ داران کو ہوگا، نہ کہ اکاؤنٹ ہولڈر کو۔ گو بہتر یہی ہے کہ اس سے بھی احتراز کیا جائے ۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 200084

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں