بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 شعبان 1445ھ 28 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

معذور افراد کے لیے جمعہ کی نماز کا حکم


سوال

کیا معذور افراد پر جمعہ کی نماز فرض ہے؟اگر ان کو جمعہ پڑھنے کے لیے مسجد میں لے جائیں تو کیا حکم ہے؟اور  اگر نہ لے جائیں تو کیا حکم ہے؟

جواب

بیمار اور معذور شخص جو چل کر مسجد نہ جا سکتا ہو ، یا مسجد جانے سے بیماری کے بڑھ جانے یا طویل ہو جانے کا اندیشہ ہو ،اور وہ شخص جو بڑھاپے کی وجہ سے اتنا کمزور ہو چکا ہو کہ چل کر مسجد نہ جا سکتا ہو ، ان پر جمعہ کی نماز فرض نہیں  ،تاہم اگر یہ لوگ مسجد میں حاضر ہو کر جمعہ کی نماز ادا کرلیں تو ان سے ظہر کا فرض ساقط ہو جائے گا ۔ 

سنن ابی داؤد   میں ہے :

"عن طارق بن شهاب، عن النبي - صلى الله عليه وسلم - قال: "‌الجمعة ‌حق واجب ‌على كل مسلم في جماعة إلا أربعة: عبد مملوك، أو امرأة، أو صبي، أو مريض."

(باب الجمعة للمملوك والمرءة  ، 295/2  ، ط : دار الرسالة)

بدائع الصنائع میں ہے :

"ثم هؤلاء الذين لا جمعة عليهم إذا حضروا الجامع وأدوا الجمعة فمن لم يكن من أهل الوجوب كالصبي والمجنون فصلاة الصبي تكون تطوعا ولا صلاة للمجنون رأسا، ومن هو من أهل الوجوب كالمريض والمسافر والعبد والمرأة وغيرهم تجزيهم ويسقط عنهم الظهر."

(کتاب الصلوۃ ،فصل بيان شرائط الجمعة۔258/1۔ ط: دارالکتب العلمیۃ)

مجمع الأنھر شرح ملتقی الأبحر میں ہے:

"(وشرط وجوبها) أي الجمعة (ستة الإقامة بمصر) فلا تجب على المسافر وإن عزم أن يمكث فيه يوم الجمعة بخلاف القروي العازم فيه فإنه كأهل المصر (والذكورة) فلا تجب على المرأة للنهي عن الخروج سيما إلى مجمع الرجال (والصحة) فلا تجب على المريض ومثله الشيخ الكبير الضعيف (والحرية) فلا تجب على العبد لأنه مشغول بخدمة المولى واختلفوا في العبد المأذون والمكاتب ومعتق البعض والعبد الذي حضر باب الجامع ليحفظ دابته قيل: تجب عليهم وقيل: لا تجب."

(كتاب الصلوة ، باب صلاة الجمعة ، 169/1،دار احیاء التراث العربی)

حاشية الطحطاوي علي مراقي الفلاح"  ميں ہے :

" والمراد بالمريض : الذي لا يقدر على الذهاب إلى الجامع أو يقدر ولكن يخاف زيادة مرضه أو بطء برئه بسبب جلى وألحق بالمريض الممرض إن بقي المريض ضائعا بخروجه على الأصح جوهرة قوله: "لما روينا" أي من قوله صلى الله عليه وسلم: "الجمعة حق واجب على كل مسلم في جماعة إلا أربعة" الخ وعد منهم المريض."

(باب الجمعة ،  ص : 505 ،  ط : دارالكتب العلمية)

فتاوی شامی میں ہے :

"وفاقدها أي هذه الشروط أو بعضها (إن) اختار العزيمة و (صلاها وهو مكلف) بالغ عاقل (وقعت فرضا) عن الوقت لئلا يعود على موضوعه بالنقض وفي البحر هي أفضل إلا للمرأة."

( کتاب الصلوۃ ،باب الجمعۃ ، 155/1 ، ط : ایچ ایم سعید )

فقط و الله أعلم


فتوی نمبر : 144408100543

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں