بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1444ھ 03 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

ایک عبارت کا حوالہ اور نہج البلاغۃ کی حیثیت


سوال

اس قول کا حوالہ درکار ہے "إنما الشوریٰ للمھاجرین و الأنصار"  خلیفہ کے   انتخاب کا حق صرف مہاجرین و انصار کو حاصل ہے۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ عبارت ہمیں نہج البلاغۃ کے علاوہ کسی اور کتا ب میں نہیں ملی اور نہج البلاغۃ چوتھی صدی ہجری کے اہل تشیع عالم علامہ سید شریف مرتضی یا ان کے بھائی سید شریف رضی کی  مرتب کردہ ہے، اس کتاب کے اندر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے خطبات ، مکتوبات ، حکمت اور نصائح والے اقوال جمع کیے ہیں اور یہ کتاب اہل تشیع کے ہاں مذہبی حیثیت کی حامل ہے،  لیکن اس کتاب کی اسنادی حیثیت درست نہیں ہے، یہ کتاب نہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے خطبات کا مجموعہ ہے اور نہ ان کی طرف اس کتاب کی نسبت کرنا  درست ہے۔

علامہ شمس الدین أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن عثمان الذہبی (المتوفیٰ: 748هـ) سیر اعلام النبلاء میں لکھتے ہیں کہ یہ کتاب  حضرت علی  کرم اللہ وجہہ کی طرف منسوب ہے، لیکن اس کی کوئی سند نہیں ہے، اور اس میں بعض باتیں باطل ہیں،  اگرچہ اس میں کچھ حق بھی ہے، لیکن اس میں ایسی من گھڑت چیزیں بھی ہیں کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے کہا ہو۔

حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ (المتوفی ۸۵۲ھ ) لسان المیزان میں تحریر فرماتے ہیں کہ : جو شخص نہج البلاغہ کا مطالعہ کرے تو وہ یقین سے کہہ سکتا ہے کہ یہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ پر جھوٹ گھڑا گیا ہے، اس لیے کہ اس میں شیخین کریمین حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو صریح گالیاں دی گئی ہیں  اور  ان کی شان میں گستاخی ہے، اور اس میں ایسے تناقض اور گھٹیا چیزیں ہیں کہ جو  شخص صحابہ کرام احوال سے واقف ہو  تو وہ یقین سے کہہ سکتا ہے کہ اس کتاب میں اکثر چیزیں باطل ہیں۔

اور ابن حزم رحمہ اللہ فرماتے ہیں، اس کے مصنف معتزلہ کے بڑے داعیوں میں سے تھے اور یہ امامیہ فرقہ سے تعلق رکھتے تھے۔

سیر اعلام النبلاء میں ہے:

"العلامة، الشريف، المرتضى، نقيب العلوية، أبو طالب علي بن حسين بن موسى القرشي، العلوي، الحسيني، الموسوي، البغدادي، من ولد موسى الكاظم ولد: سنة خمس وخمسين وثلاث مائة.وحدث عن: سهل بن أحمد الديباجي، وأبي عبد الله المرزباني، وغيرهما.

قال الخطيب  :كتبت عنه.قلت: هو جامع كتاب (نهج البلاغة) ، المنسوبة ألفاظه إلى الإمام علي - رضي الله عنه -، ولا أسانيد لذلك، وبعضها باطل، وفيه حق، ولكن فيه موضوعات حاشا الإمام من النطق بها، ولكن أين المنصف؟!وقيل: بل جمع أخيه الشريف الرضي."

(جلد ۱۷ ص: ۵۸۸ ، ۵۸۹ ط: مؤسسةالرسالة)

لسان المیزان میں ہے:

"علي بن الحسن بن موسى بن محمد بن موسى بن إبراهيم بن موسى بن جعفر بن محمد بن علي بن الحسين بن علي بن أبي طالب أبو القاسم العلوي الحسيني ‌الشريف ‌المرتضى المتكلم الرافضي المعتزلي صاحب التصانيف حدث عنه سهل الديباجي والمرزباني وغيرهما وولي نقبة العلوي ومات سنة ست وثلاثين وأربع مائة عن إحدى وثمانين سنة وهو المهم بوضع كتاب [نهج البلاغة] وله مشاركة قوية في العلوم ومن طالع [نهج البلاغة] جزم بأنه مكذوب على أمير المؤمنين علي رضي الله عنه ففيه السب الصراح والحط على السيدين أبي بكر وعمر رضي الله عنهما وفيه من التناقض والأشياء الركيكة والعبارات التي من له معرفة بنفس القرشيين الصحابة وبنفس غيرهم ممن بعدهم من المتأخرين جزم بأن الكتاب أكثره باطل أنهى وقال ابن حزم كان من كبار المعتزلة الدعاة وكان إماميا."

(جلد ۴ ص: ۲۲۳ ط: مؤسسة الاعلمي للمطبوعات بیروت)

فقط و اللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144403100959

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں