بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو القعدة 1445ھ 27 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

مذی کی وجہ سے غسل اور اس کا کپڑوں پر لگنے کا حکم


سوال

جماع سے پہلے بیوی کے ساتھ بوس و کنار(رومانس) کرنے سے مرد کے عضو خاص سے سفید پانی(مذی) نکلتا ہے ، اس پانی سے بچہ پیدا نہیں ہوتا، اب پوچھنا یہ ہے کہ   :

1۔اگرمحض بوس وکنار(رومانس ) کیا اور جماع( دخول وغیرہ) نہیں کیاتوکیا اس پانی (مذی) کے نکلنے کی وجہ سے مکمل غسل کرنا پڑے گا یا صرف اس جگہ (جہاں پانی لگا ہو) کو دھونا کافی ہوگا؟

2۔ اگر یہ پانی (مذی) کپڑوں پر لگ جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

1۔واضح رہے کہ بیوی کے ساتھ بوس وکنار(رومانس) کرتے وقت عضو خاص سے ایک قسم کالیس دار پانی نکلتا ہے جو پانی کی طرح  ہوتاہے، جو  شہوت کے وقت نکلتا  ہے، لیکن  اس کے نکلنے  پر شہوت  ختم نہیں ہوتی، بلکہ شہوت میں  مزید اضافہ ہوجاتا ہے، اس پانی کو مذی کہتے ہیں، اس کا حکم یہ ہے کہ اگر جماع (دخول وغیرہ ) نہیں کیا ہو تو صرف اس کے  نکلنے کی صورت میں وضو ٹوٹ جاتاہے،  غسل فرض نہیں ہوتا،نماز ادا کرنے سے پہلے وضو کرنا لازم ہوگا۔

2۔مذی  نجاست غلیظہ ہے،اوراس کاحکم یہ ہے کہ نجاستِ  غلیظہ اگرایک درہم (ہاتھ کی ہتھیلی کے گڑھے)کی مقداریااس سے کم مقدارمیں کپڑے پرلگی ہوتو (اگرچہ اس مقدارمیں بھی نجاست کودھولیناچاہیے تاہم ) وہ معاف ہے ،یعنی نمازکراہت کے ساتھ ہوجائے گی،  اوراگرایک درہم کی مقدارسےزائدہو تو ایسے کپڑے میں نمازنہیں ہوگی۔

حاشیۃ الطحطاوی میں ہے:

"منها مذي.... وهو ماء أبيض رقيق يخرج عند شهوة لا بشهوة ولا دفق ولا يعقبه فتور وربما لا يحس بخروجه وهو أغلب في النساء من الرجال.ويسمى في جانب النساء قذى بفتح القاف والدال المعجمة. "و" منها "ودي" بإسكان الدال المهملة وتخفيف الياء وهو ماء أبيض كدر ثخين لا رائحة له يعقب البول وقد يسبقه أجمع العلماء على أنه لايجب الغسل بخروج المذي والودي."

(‌‌كتاب الطهارة، فصل: عشرة أشياء لا يغتسل منها مذي، ج:1، ص:100۔101، ط: دار الكتب العلمية)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(لا) عند (مذي أو ودي) بل ‌الوضوء ‌منه ومن البول جميعا على الظاهر....(قوله: لا عند مذي) أي لا يفرض الغسل عند خروج مذي كظبي بمعجمة ساكنة وياء مخففة على الأفصح، وفيه الكسر مع التخفيف والتشديد، وقيل هما لحن ماء رقيق أبيض يخرج عند الشهوة لا بها، وهو في النساء أغلب، قيل هو منهن يسمى القذى بمفتوحتين نهر.

(قوله: أو ودي) بمهملة ساكنة وياء مخففة عند الجمهور، وحكى الجوهري كسر الدال مع تشديد الياء. قال ابن مكي: ليس بصواب. وقال أبو عبيد إنه الصواب وإعجام الدال شاذ: ماء ثخين أبيض كدر يخرج عقب البول نهر.

(قوله: بل ‌الوضوء ‌منه إلخ) أي بل يجب ‌الوضوء ‌منه أي من الودي ومن البول جميعا، وهذا جواب عما يقال إن الوجوب بالبول السابق على الودي فكيف يجب به. وبيان الجواب أن وجوبه بالبول لا ينافي الوجوب بالودي بعده."

(كتاب الطهارة، مطلب سنن الغسل، ج:1، ص:165، ط:سعيد)

وفيه أيضاً:

"( وعفا ) الشارع ( عن قدر درهم ) وإن كره تحريماً، فيجب غسله وما دونه تنزيهاً فيسن، وفوقه مبطل ( وهو مثقال ) عشرون قيراطاً ( في ) نجس ( كثيف ) له جرم ( وعرض مقعر الكف ) وهو داخل مفاصل أصابع اليد ( في رقيق من مغلظة كعذرة ) آدمي وكذا كل ما خرج منه موجبا لوضوء أو غسل مغلظ."

(‌‌كتاب الطهارة، ‌‌باب الأنجاس، ج:1، ص:316، ط:سعيد)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144504101781

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں