بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 رجب 1444ھ 30 جنوری 2023 ء

دارالافتاء

 

مزار یا پیر کو سجدہ کرنا


سوال

ایک شخص کسی مزار کی طرف منہ کرکے سجدہ کرے اور نیت یہ ہو کہ میں اس فلاں پیر کی طرف سجدہ کرتا ہوں یا اس فلاں مزار کی طرف سجدہ کرتا ہوں، یعنی دو رکعت نماز کی نیت باندھے اور غیراللہ کی نیت کرے، ایسا شخص دائرۂ اسلام سے خارج ہوگا کہ نہیں؟ اور غیراللہ کے نام پر سجدہ کرنے سے بیوی کو طلاق ہوگی یا نہیں؟ اگر ہوگی تو کون سی طلاق ہوگی؟

جواب

کسی مزار یا پیر کی طرف منہ کرکے سجدہ کرنےکے بارے میں حکم یہ ہے کہ اگر سجدہ  مزار کے پیر صاحب کی عبادت اور تعظیم کے لیے کیا ہےتو یہ کفر ہے، تجدید ِایمان کے ساتھ ساتھ شادی شدہ ہونے کی صورت میں تجدید ِنکاح بھی ضروری ہے، اور اگر عبادت اور تعظیم کے لیے نہیں صرف سلامی (تحیہ) کے لیے کیا ہےتو کفر تو نہیں لیکن گمراہی ہے، ایسے آدمی پر بھی توبہ و استغفار لازم ہے، باقی تجدید ِنکاح لازم نہیں ہے۔نیز اللہ کے علاوہ کسی اور کو مقصود بناکر نماز پڑھنا مطلقاً کفر ہے، ایسا کرنے والے پر  تجدید ِایمان کے ساتھ ساتھ شادی شدہ ہونے کی صورت میں تجدیدِنکاح بھی لازم ہے۔

فتاوی شامی میں ہے :

"وكذا) ما يفعلونه من (تقبيل الأرض بين يدي العلماء) والعظماء فحرام والفاعل والراضي به آثمان لأنه يشبه عبادة الوثن وهل يكفران: على وجه العبادة والتعظيم كفر وإن على وجه التحية لا وصار آثما مرتكبا للكبيرة.

(قوله :إن على وجه العبادة أو التعظيم كفر إلخ) تلفيق لقولين قال الزيلعي: وذكر الصدر الشهيد أنه لا يكفر بهذا السجود، لأنه يريد به التحية وقال شمس الأئمة السرخسي: إن كان لغير الله تعالى على وجه التعظيم كفر اهـ قال القهستاني: وفي الظهيرية يكفر بالسجدة مطلقا."

(كتاب الحظر والإباحة:6/ 383، ط: سعيد)

المبسوط للسرخسي میں ہے:

"وكذلك لو أكره على أن يصلي لهذا الصليب، ومعناه يسجد لهذا الصليب، فإن لم يخطر بباله شيء لم تبن امرأته منه، وإن خطر بباله أن يصلي لله، وهو مستقبل القبلة، أو غير مستقبل القبلة ينبغي أن يقصد ذلك؛ لأن الصلاة غير مستقبل القبلة تجوز عند الضرورة، والأعمال بالنيات، فإن ترك هذا بعد ما خطر بباله فصلى يريد الصلاة للصليب كما أكره عليه كفر بالله تعالى، وبانت منه امرأته؛ لأنه بعدما خطر بباله قد وجد المخرج عما ابتلي به، فإذا لم يفعل كان كافرا، وهذه المسألة تدل على أن السجود ‌لغير ‌الله تعالى على وجه التعظيم كفر."

(كتاب الإكراه، باب ما يخطر على بال المكره من غير ما أكره عليه،24/ 130، ط:دار المعرفة بيروت)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144403101489

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں