بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو القعدة 1445ھ 26 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

میت کے گھر کھانا کھانے کا حکم


سوال

ہمارے علاقے میں جب کسی کا انتقال ہو جائے تو سب پیسے جمع کرتے ہیں اور جس گھر میں انتقال ہوا ہو، ان کے لیے کھانے کا انتظام کرتے ہیں جس میں جس گھر میں انتقال ہوا ہو وہ شامل نہیں ، مگر گاؤں کے سب لوگ وہاں موجود ہوتے ہیں وہ بھی کھانا کھا لیتے ہیں ،اب گاؤں کے باقی لوگوں کا کھانا کھانا کیسا ہے؟

دوسرا سوال یہ ہے اگر ایک گھر میں پانچ بھائی ہوں مگر وہ سب الگ الگ رہتے ہوں اور ان کے والدین کسی ایک بھائی کے ساتھ رہتے ہوں، تو اب اگر والدین میں سے کسی کا انتقال ہو جائے تو گاؤں والے کس کے لیے تین دن کھانے کا انتظام کریں گے ، سب بھائیوں کے لیے یا والد/ والدہ جس بیٹے کے ساتھ رہتے تھے صرف ان کے لیے ؟ اگر سب کے لیے کیا جائے تو یہ تو بہت زیادہ تعداد ہوگی۔

جواب

واضح رہے کہ  جب  کسی  کے گھر میت  ہوجائے تو اس کے رشتہ داروں اور  پڑوسیوں کے لیے کھانا تیار کرکے اہلِ  میت کے گھر بھیجنا مستحب عمل ہے ، تاہم غم کے اس موقع پر خوشی و مسرت کی طرح باضابطہ کھانے کا دستر خوان سجانا منع ہے۔ نیز علاقے والوں میں سے جو شخص اس میں خوشی سے رقم دے اس سے لی جاسکتی ہے، جبرًا چندہ جمع کرنا، یا  "میت کمیٹی"  وغیرہ کے عنوان سے فنڈ قائم کرکے یہ اخراجات پورے کرنا درست نہیں ہوگا۔

چناں چہ صورتِ مسئولہ میں میت کے گھر میں صرف  میت کے گھر والے ہی کھانا کھائیں، نیز وہ لوگ بھی کھانا کھاسکتے ہیں جو دور دراز علاقے سے جنازہ میں شرکت کے لیے آئے ہوں اور کسی وجہ سے وہ واپس نہیں جاسکتے ہوں اور باہر کھانے کاکوئی انتظام بھی نہ ہو اور اہلِ میت میں میت کے تمام بیٹے شامل ہوتے ہیں اور سب ہی اس غم میں برابر کے شریک ہیں، لہذاسب بیٹوں کے لیے  میت کے گھر میں کھانے کا انتظام کرنا ہی بہتر  ہے،  لازم نہیں۔

مشكاة المصابيح  میں ہے:

"وعن عبد الله بن جعفر قال: لما جاء نعي جعفر قال النبي صلى الله عليه وسلم: صانعوا لآل جعفر طعاما فقد أتاهم ما يشغلهم".

(کتاب الجنائز، باب البکاء علی المیت، الفصل الثاني، ص: 151، ط: قدیمي)

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"والمعنى: جاءهم ما يمنعهم من الحزن عن تهيئة الطعام لأنفسهم، فيحصل لهم الضرر وهم لايشعرون. قال الطيبي: دل على أنه يستحب للأقارب والجيران تهيئة طعام لأهل الميت اهـ. والمراد طعام يشبعهم يومهم وليلتهم، فإن الغالب أن الحزن الشاغل عن تناول الطعام لايستمر أكثر من يوم، وقيل: يحمل لهم طعام إلى ثلاثة أيام مدة التعزية، ثم إذا صنع لهم ما ذكر من أن يلح عليهم في الأكل لئلايضعفوا بتركه استحياء، أو لفرط جزع، واصطناعه من بعيد أو قريب للنائحات شديد التحريم ؛ لأنه إعانة على المعصية، واصطناع أهل البيت له لأجل اجتماع الناس عليه بدعة مكروهة، بل صح عن جرير رضي الله عنه: كنا نعده من النياحة، وهو ظاهر في التحريم. قال الغزالي: ويكره الأكل منه، قلت: وهذا إذا لم يكن من مال اليتيم أو الغائب، وإلا فهو حرام بلا خلاف".

(کتاب الجنائز، باب البکاء علی المیت، الفصل الثاني، 4/ 194، ط: رشیدیه) 

  فتاویٰ شامی میں ہے:

"(قوله: وباتخاذ طعام لهم) قال في الفتح: ويستحب لجيران أهل الميت والأقرباء الأباعد تهيئة طعام لهم يشبعهم يومهم وليلتهم، لقوله صلى الله عليه وسلم: «اصنعوا لآل جعفر طعاماً فقد جاءهم ما يشغلهم». حسنه الترمذي وصححه الحاكم؛ ولأنه بر ومعروف، ويلح عليهم في الأكل؛ لأن الحزن يمنعهم من ذلك فيضعفون".

 (کتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة، 2/ 240، ط: سعید)

فتح القدیر میں ہے:

"ويكره اتخاذ الضيافة من الطعام من أهل الميت لأنه شرع في السرور لا في الشرور، وهي بدعة مستقبحة. روى الإمام أحمد وابن ماجه بإسناد صحيح عن جرير بن عبد الله قال: كنا نعد الاجتماع إلى أهل الميت وصنعهم الطعام من النياحة. ويستحب لجيران أهل الميت والأقرباء الأباعد تهيئة طعام لهم يشبعهم يومهم وليلتهم؛ لقوله صلى الله عليه وسلم: «اصنعوا لآل جعفر طعاماً فقد جاءهم ما يشغلهم». حسنه الترمذي وصححه الحاكم؛ ولأنه بر ومعروف، ويلح عليهم في الأكل؛ لأن الحزن يمنعهم من ذلك فيضعفون، والله أعلم".

(کتاب الصلاة، قبیل باب الشهید، 2/ 102 ، ط: رشیدیه)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144502100221

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں