بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ذو القعدة 1441ھ- 02 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

میت کے غسل کا پانی کیسا ہو؟


سوال

میت کو غسل دینے کے لیے پانی گرم کرنے اور بیری کے پتے ڈالنے کی کیا وجہ ہے ?اور اگر پانی گرم نہ کیاجائے اور پتے بھی نہ ڈالے جائیں تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

میت کو غسل دینے کے سلسلہ میں شرعی ہدایت یہ ہے کہ پانی  میں بیری کے پتے ڈال کر نیم گرم کرکے غسل دیاجائے؛ تاکہ صفائی اور نظافت اچھی طرح ممکن ہو، اس  پانی سے بدن پر موجود میل کچیل سہولت سے اور اچھی طرح صاف ہوجائے گی، یہ طریقہ افضل ہے،  ضروری نہیں ہے۔

غسل کے دوران بیری کے پتوں یا اُشنان وغیرہ کا استعمال قدیم زمانے سے زیادہ نظافت کے حصول کے لیے کیا جاتا رہاہے، فقہاءِ کرام نے بھی اسی بنیاد پر ان کے استعمال کا لکھا ہے،  لہٰذا بہتر یہ ہے کہ میت کے غسل کے پانی میں بیری کے پتوں کا استعمال کیا جائے، تاہم اگر اس کے متبادل صابن وغیرہ کا استعمال کیا جائے تو بھی درست ہے، یا بیری کے پتے اور صابن وغیرہ کچھ بھی موجود نہ ہو تو سادہ پانی گرم کرکے یا گرم کیے بغیر صاف پانی سے غسل دے دیا جائے تو بھی غسل درست ہوجائے گا۔

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ـ مشكول - (5 / 269):

"(قوله: وصب عليه ماء مغلي بسدر أو حرض) مبالغة في التنظيف؛ لأن تسخين الماء كذلك مما يزيد في تحقيق المطلوب فكان مطلوبًا شرعًا وما يظن مانعًا، وهو كون سخونته توجب انحلاله في الباطن فيكثر الخارج هو عندنا داع لا مانع؛ لأن المقصود يتم إذ يحصل باستفراغ ما في الباطن تمام النظافة والأمان من تلويث الكفن عند حركة الحاملين له فعندنا الماء الحار أفضل على كل حال، و الحرض أشنان غير مطحون والمغلی من الإغلاء لا من الغلي والغليان؛ لأنه لازم، كذا في المعراج (قوله: وإلا فالقراح) أي إن لم يتيسر ما ذكر فيصب عليه الماء الخالص؛ لأن المقصود هو الطهارة ويحصل به".

حاشية على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح - (1 / 373):

"(قوله:صب عليه ماء) والأولى أن يكون حلوًا؛ لأنه أبلغ في أزالة الوسخ لا سيما إذا كان يغسل بالصابون أفاده بعضهم. (قوله: مغلى) من أغليت الماء أغلاه لا من الغلي والغليان؛ لأنهما مصدران للازم واللازم لايبنى منه اسم المفعول على المشهور، و دل كلامه على أن الحار أفضل مطلقًا سواء كان عليه وسخ أم لا، نهر، وأصل مغلي مغلي تحركت الياء وانفتح ما قبلها قلبت ألفًا ثم حذفت لالتقاء الساكنين. (قوله:بسدر) هو ورق النبق ويطلق على نفس الشجر وعلى الغسل كما في النهر. (قوله: أو حرض) بضم الحاء المهملة ويجوز في الراء السكون والضم. (قوله:أشنان غير مطحون) تبع فيه صاحب الجوهرة وكتب اللغة خالية عن هذا التقييد و "أو" هنا للتخيير فيكفي حصول أحدهما، و فيه يقال: إنما ذكره لكونه الأنسب للمقام لا أنه تفسير للمعنى اللغوي. (قوله: الذي وقصته دابته) أي ألقته فدقت عنقه. (قوله: وإن لم يوجدا) أي السدر أو الحرض، و الأولى إفراد الضمير؛ لأن العطف بأو، أو يكون الضمير للماء المغلي بأحد هذين الشيئين. (قوله: فالغسل بالقراح) القراح كسحاب. (قوله: وهو الماء الخالص) الذي لم يخالطه شيء كما في القاموس. (قوله: كاف) خبر للمبتدأ المحذوف". فقط والله أعلم 


فتوی نمبر : 144108201427

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں