بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ذو القعدة 1443ھ 30 جون 2022 ء

دارالافتاء

 

میت کے گھر چولہا جلانا اور کھانا کھانا


سوال

اگر کسی  کے گھر میں کوئی  فوت  ہو جاۓ تو کیا اس گھر میں آگ نہیں جلانی  چاہیے؟ کیا یہ ناجائزہے؟  کیا اس گھر کا کھانا کھانا بھی ناجائز ہے؟  اگرچہ وہ کھانا کسی اور آدمی نے دیا ہو۔

جواب

یہ  بات مشہور ہے کہ میت کے گھر تین دن تک چولہا نہیں جلانا چاہیے، اس بات کی کوئی اصل نہیں،  ضرورت پڑنے پر چولہا جلایا جا سکتا ہے۔

پھر میت  کے  رشتہ داروں  اور  ہم سایوں کے لیے مستحب ہے کہ وہ میت کے اہلِ خانہ کے لیے ایک دن اور رات کے کھانے کا انتظام کریں، کیوں کہ میت کے اہلِ خانہ غم سے نڈھال ہونے اور تجہیز و تکفین میں مصروف ہونے کی وجہ سے کھانا پکانے کا انتظام نہیں کرپاتے، غزوۂ موتہ میں جب نبی کریم ﷺ    کے  چچا  زاد  بھائی  حضرت  جعفربن ابی طالب رضی اللہ عنہ شہید ہوئے اور ان کی وفات کی خبر آپ ﷺ  تک پہنچی تو آپ ﷺ   نے  صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ جعفر کے گھر والوں کے لیے کھانے کا بندوبست کرو ،کیوں کہ ان پرایسا شدید  صدمہ آن پڑا ہے  جس نے انہیں(دیگر اُمور سے )مشغول کردیا ہے۔

میت کے اہل خانہ کے علاوہ جو افراد دور دراز علاقوں سے میت کے اہلِ خانہ سے تعزیت اور تکفین و تدفین میں شرکت کے لیے آئے ہوں اگر وہ بھی کھانے میں شریک ہوجائیں تو ان کا شریک ہونا  بھی درست ہے، تاہم تعزیت کے لیے قرب  و  جوار سے آئے لوگوں کے لیے میت کے ہاں باقاعدہ کھانے کا انتظام کرنا خلافِ  سنت عمل  ہے۔

نیز اگر کھانا میت کے ترکے میں سے تیار کیا گیا ہو، تو اس میں میراث کے احکام کی رعایت رکھنا ضروری ہوگا، یعنی اگر تمام ورثاء عاقل بالغ ہیں اور وہ اپنی خوشی سے کھانا تیار کرکے دور سے آنے والے مہمانوں کو بخوشی دیتے ہیں تو ان کے لیے کھانے کی اجازت ہوگی، اگر ورثاء کی رضامندی نہ ہو یا  ورثہ میں نابالغ یا ناسمجھ بھی ہوں تو اولًا اس مال سے کھانا نہ بنایا جائے، بلکہ  اہلِ محلہ یا دوسرے رشتے دار اپنی طرف سے کھانے کا انتظام کردیں، اور اگر کہیں سے انتظام نہ ہو، بلکہ اہلِ میت کو ہی دور سے آنے والے مہمانوں کے لیے میت کے ترکے سے کھانا تیار کرنا پڑے تو مہمانوں کے کھانا کھانے کی صورت میں ورثہ میں سے نابالغ اور ناسمجھ ورثاء کے حصے میں سے اسے منہا نہ کیا جائے، صرف  ان بالغ ورثہ کے حصے سے اسے منہا کیا جائے گا جنہوں نے اپنی رضامندی سے ایسا کیا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 240):

"(قوله: و باتخاذ طعام لهم) قال في الفتح: و يستحب لجيران أهل الميت و الأقرباء الأباعد تهيئة طعام لهم يشبعهم يومهم وليلتهم، لقوله صلى الله عليه وسلم: «اصنعوا لآل جعفر طعاما فقد جاءهم ما يشغلهم» حسنه الترمذي وصححه الحاكم ولأنه بر ومعروف، ويلح عليهم في الأكل لأن الحزن يمنعهم من ذلك فيضعفون. اهـ. مطلب في كراهة الضيافة من أهل الميت ، وقال أيضا: ويكره اتخاذ الضيافة من الطعام من أهل الميت لأنه شرع في السرور لا في الشرور، وهي بدعة مستقبحة: وروى الإمام أحمد وابن ماجه بإسناد صحيح عن جرير بن عبد الله قال " كنا نعد الاجتماع إلى أهل الميت وصنعهم الطعام من النياحة ".

(كتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة، ط: سعيد)

آپ کے مسائل اور ان کا حل میں ہے:

’’جس گھر میں میّت ہوجائے وہاں چولہا جلانے کی کوئی ممانعت نہیں، چوں کہ میت  کے گھر والے صدمے کی وجہ سے کھانا پکانے کا اہتمام نہیں کریں گے؛ اس لیے عزیز و اقارب اور ہم سایوں کو حکم ہے کہ ان کے گھر کھانا پہنچائیں اور ان کو کھلانے کی کوشش کریں۔اپنے چچازاد حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ کی شہادت کے موقع پر آنحضرتﷺ نے اپنے لوگوں کو یہ حکم فرمایا تھا، اور یہ حکم بطورِ  استحباب کے ہے، اگر میّت کے گھر والے کھانا پکانے کا انتظام کرلیں تو کوئی گناہ نہیں، نہ کوئی عار یا عیب کی بات ہے‘‘۔ (ج۴ ص۳۲۰، مکتبہ لدھیانوی)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144211200936

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں