بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میت کی تصویر کسی کو بھیجنا

سوال

 کیا میت کی تصاویر آخری دیدار کے لیے واٹس ایپ پر کسی محرم کے پاس بھیجی جا سکتی ہے۔ یا ویڈیو کال پر آخری دیدار کروایا جا سکتا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ شریعتِ مطہرہ میں جان دار کی تصویر اور ویڈیو بنانا حرام ہے؛ لہذا  جان دار کی تصویر کسی بھی نوعیت کی ہو بلا ضرورتِ شدیدہ اس کا بنانا ، اور لوگوں کو بھیجنا  جائز نہیں ہے، اور  زندہ انسان  کی طرح میت  کی تصویر بنانا بھی جائز نہیں ہے۔

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر فتویٰ دیکھیے:

دوری کی وجہ سے وارث کو وڈیو کال پر میت کا چہرہ دکھانا

حدیث شریف میں ہے:

"عن عبدالله بن مسعود رضي الله عنه سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «إن أشد الناس عذاباً المصورون»".

(مشكوة المصابيح، كتاب اللباس، باب التصاوير، ج:2، ص: 358، ط: قديمي)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"لا تمثال إنسان أو طير.

( قوله: أو طير) لحرمة تصوير ذي الروح".

(باب الحظر والإباحة، فصل في اللبس، ج:3، ص: 361، ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144206200493
تاریخ23-01-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں