بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ربیع الاول 1443ھ 25 اکتوبر 2021 ء

دارالافتاء

 

میت کی نماز جنازہ پہلی مرتبہ اہل تشییع کے پڑھنے اور دوسری مرتبہ اہل سنت کے پڑھنے کا حکم


سوال

 ایک میت کی دو الگ مسلک کے لوگ نماز جنازہ پڑھائیں، یعنی پہلے اہل تشیع نے اس میت کا جنازہ پڑھایا اور پھر اسی میت کا اہل سنت نے جنازہ پڑھایا،تو ایسی صورت میں شرکت کرنا چاہیے کہ نہیں؟

جواب

جواب سے پہلے ایک بات بطور تمہید کے سمجھنا ضروری ہے کہ جو  شیعہ قرآنِ مجید میں تحریف، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خدا ہونے، یا جبرئیل امین سے وحی پہنچانے میں غلطی کا عقیدہ رکھتاہو، یا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صحابیت کا انکار کرتاہو یا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگاتاہو، یا بارہ اماموں کی امامت من جانب اللہ مان کر ان کو معصوم مانتاہو یا اس کے علاوہ کوئی اور کفریہ عقیدہ رکھتا ہو تو ایسا شیعہ اسلام کے بنیادی عقائد کی مخالفت کی وجہ سے دائرہ اسلام سے خارج ہوگا۔

یہ شخص اگر کسی مسلمان کی نماز جنازہ پڑھائے گا تو وہ نماز جنازہ ادا نہیں ہوگی، دیگر مسلمانوں پر اس کی نماز جنازہ پڑھنا ضروری ہوگا، اسی طرح  مذکورہ عقائد کے حامل شخص کا انتقال ہوجائے تو  اس  کی نمازِ جنازہ پڑھنا یا پڑھانا  سنی  مسلمان کے لیے حرام ہے، جو شخص اس کے کفریہ عقائد سے مطلع ہونے کے باوجود جائز سمجھتے ہوئے اس کی نماز جنازہ پڑھے یا پڑھائے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہوجائے گا اور اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے اس فعل پر توبہ کرنے کے بعد تجدیدِ ایمان کے ساتھ تجدیدِ نکاح بھی کرے۔

البتہ اگر کوئی شخص کسی شیعہ کے کفریہ عقائد پر مطلع نہ ہو یا مطلع ہونے کے باوجود ناجائز سمجھتے ہوئے کسی لالچ کی وجہ سے یا سیاسۃً و رسماً نمازِ جنازہ پڑھے تو وہ دائرہ اسلام سے تو خارج نہیں ہوگا، لیکن حرام فعل کے ارتکاب کی وجہ سے وہ فاسق ہوگا۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں جس شخص کا انتقال ہوا ہے، اگر وہ مسلمان ہے تو  اہلِ تشییع (جو کفریہ عقائد کے حامل ہوں) کے نمازہ جنازہ پڑھنے سے اس شخص کی نمازِ جنازہ ادا نہیں ہوئی، اس صورت میں، بعد میں جو اہلِ سنت نے اس کی نماز جنازہ پڑھی ہے، وہی اس میت کی نمازِ جنازہ ہے اور اسی میں شرکت کرنا ضروری ہے، پہلی نمازہ جنازہ جو اہلِ تشییع نے پڑھی ہے، اس میں شرکت کرنا جائز نہیں ہے۔

اور اگر میت مسلمان نہیں ہے، بلکہ  کفریہ عقائد کے حامل شیعہ کی ہے تو اس صورت میں  مسلمانوں کے لیے اس کی نمازہ جنازہ پڑھنا  جائز  ہی نہیں ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 46):

"وبهذا ظهر أن الرافضي إن كان ممن يعتقد الألوهية في علي، أو أن جبريل غلط في الوحي، أو كان ينكر صحبة الصديق، أو يقذف السيدة الصديقة فهو كافر؛ لمخالفته القواطع المعلومة من الدين بالضرورة، بخلاف ما إذا كان يفضل علياً أو يسب الصحابة؛ فإنه مبتدع لا كافر كما أوضحته في كتابي "تنبيه الولاة والحكام عامة أحكام شاتم خير الأنام أو أحد الصحابة الكرام عليه وعليهم الصلاة والسلام".

أحكام القرآن للجصاص ط العلمية (3 / 185):

"قوله تعالى: {ولا تصل على أحد منهم مات أبدًا ولا تقم على قبره} فيه الدلالة على معان: أحدها: فعل الصلاة على موتى المسلمين وحظرها على موتى الكفار."

الفتاوى الهندية (1/ 84):

"(الفصل الثالث في بيان من يصلح إمامًا لغيره) قال المرغيناني: تجوز الصلاة خلف صاحب هوى وبدعة ولاتجوز خلف الرافضي والجهمي والقدري والمشبهة ومن يقول بخلق القرآن وحاصله إن كان هوى لايكفر به صاحبه تجوز الصلاة خلفه مع الكراهة وإلا فلا، هكذا في التبيين والخلاصة وهو الصحيح."

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144204200892

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں