بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 شوال 1445ھ 23 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

میت کی بیوہ دو بیٹیوں، دو بھائیوں اور چھ بہنوں میں وراثت کی تقسیم


سوال

ایک شخص کا انتقال ہوا، ورثاء میں ایک بیوہ، 2 بیٹیاں، 2بھائی اور6بہنیں ہیں، ان میں وراثت کیسے تقسیم ہوگی؟اس کے علاوہ بھی وراثت میں کوئی شامل ہوگا؟ ماں باپ نانا نانی دادا دادی کوئی نہیں ہیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں مرحوم کے ترکہ کی تقسیم کا طریقہ یہ ہےکہ سب سے پہلے مرحوم کے حقوقِ متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کے اخراجات ادا کرنے کے بعد ، اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہوتو کل مال سے اس قرض کو ادا کرنے کے بعد ، اگر  مرحوم نے کوئی جائز  وصیت کی ہو تو کل مال کے ایک تہائی حصہ میں سے اسے نافذ کرنے کے بعد باقی تمام ترکہ منقولہ و غیر منقولہ کو 48حِصّوں میں تقسیم کرکے مرحوم کی بیوہ کو 6 حِصّے، ہر ایک بیٹی کو 16 حِصّے، ہر ایک بھائی کو 2 حِصّے، ہر ایک بہن کو ایک حِصّہ ملے گا۔

صورتِ تقسیم یہ ہوگی:

میت:24 / 48

بیوہبیٹیبیٹیبھائیبھائیبہنبہنبہنبہنبہنبہن
3165
6161622111111

یعنی فیصد کے اعتبار سے 100 فیصد میں سے 12.5 فیصد مرحوم کی بیوہ کو، 33.33 فیصد مرحوم کی ہر ایک بیٹی کو، 4.16 فیصد مرحوم کے ہر ایک بھائی کو اور 2.08 فیصد مرحوم کی ہر ایک بہن کو ملے گا۔

فقط واللہ أعلم


فتوی نمبر : 144504101550

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں